دہشت گردی کا نیا چہرہ: مصنوعی ذہانت اور کرپٹو کرنسی، عالمی سلامتی کے لیے نئے خطرات
اقوام متحدہ میں پاکستان کی زیر صدارت پینل نے ایک اہم انکشاف کیا ہے، جس کے مطابق دنیا بھر میں دہشت گرد گروپ اب مصنوعی ذہانت اور کرپٹو کرنسی کو اپنے لیے ہتھیار بنا رہے ہیں۔ یہ انتباہ پاکستان کی مستقل نمائندگی اور اقوام متحدہ کے دفترِ انسدادِ دہشت گردی کے اشتراک سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں دیا گیا ۔ دہشت گردی میں مصنوعی ذہانت کا کردار کیا ہے؟ اس اہم اجلاس میں ماہرین نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت اب صرف مستقبل کی ٹیکنالوجی نہیں رہی، بلکہ دہشت گرد اسے اپنے پروپیگنڈے، جھوٹی خبروں اور نفرت انگیز مواد کو پھیلانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان کے مستقل مندوب اسد مجتبیٰ نے بتایا کہ خوارج نے سوشل میڈیا کے ذریعے نہ صرف لوگوں کو گمراہ کیا بلکہ ۲۰۲۵ء میں جعفر ایکسپریس حملے کے دوران ریسکیو آپریشن میں بھی مصنوعی جعلی ویڈیوز کے ذریعے نفسیاتی جنگ لڑی گئی ۔ کرپٹو کرنسی دہشت گردوں کے لیے کیسے خطرہ بن رہی ہے؟ اجلاس میں ایک اور بڑا موضوع ورچوئل اثاثوں یعنی کرپٹو کرنسی کا تھا۔ ماہرین نے بتایا کہ روایتی بینکنگ سسٹم کی نگرانی تو ممکن ہے، لیکن دہشت گرد اب ڈیجیٹل والٹس اور خفیہ کرنسیوں کے ذریعے فنڈز منتقل...