اسلام آباد ہائیکورٹ میں کاز لسٹ منسوخی پر جسٹس اعجاز اسحاق خان کا شدید ردعمل
اسلام آباد ہائیکورٹ میں کاز لسٹ منسوخی پر جسٹس اعجاز اسحاق خان کا شدید ردعمل اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز اسحاق خان نے مشال یوسفزئی کی جانب سے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے خلاف توہین عدالت کیس کی کازلسٹ منسوخ ہونے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کاز لسٹ منسوخ کرنے سے قبل میری عدالت کی بنیادوں میں بارود رکھ کر اڑا دیا جاتا۔ عدالت کی جانب سے یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے جب بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر توہین عدالت کیس کی کاز لسٹ منسوخ کر دی گئی تھی۔ کاز لسٹ منسوخی اور توہین عدالت کیس کاز لسٹ منسوخ ہونے کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت جاری تھی۔ اس دوران جسٹس اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ "اگر یہ سب اسی طرح ہوتا رہا تو ہم ہمیشہ بنیادی اصولوں پر وہیں کھڑے رہیں گے جہاں ہم 10 سال پہلے تھے"۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف ان کی ذات یا اختیارات کا نہیں بلکہ عدالت کی توقیر کا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس طرح کے فیصلے عوام کا نظام انصاف پر اعتماد ختم کر دیتے ہیں۔ چیف جسٹس آفس کی مداخلت عدالت نے اس بات پر بھی سوالات اٹھا...