بلوچستان جنگلات میں ۲۶۰ ملین روپے کا گھپلا: افسر مفرور، ٹھیکیدار گرفتار

 

کوئٹہ: بلوچستان کے محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات میں ۲۶۰ ملین روپے کی کرپشن کا ایک بڑا اسکینڈل منظر عام پر آگیا ہے۔ انسدادِ بدعنوانی اسٹیبلشمنٹ نے مالی سال ۲۰۲۴-۲۰۲۵ کے دوران مختلف ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ خرد برد پر ایک سینئر افسر اور ایک ٹھیکیدار کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ۔


بلوچستان کے جنگلات کے محکمے میں ۲۶۰ ملین روپے کا اسکینڈل کیسے ہوا؟

ذرائع کے مطابق، تفتیشی ٹیم نے جب محکمہ جنگلات کے ریکارڈ کا جائزہ لیا تو وہاں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ الزام ہے کہ یہ منصوبے، جو درحقیقت محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) کو مکمل کرنے تھے، غیر قانونی طور پر خود محکمہ جنگلات نے انجام دے دیے۔

کنزرویٹر مقبول الحسن دشتی کس کرپشن میں ملوث ہے؟

ساحلی انتظام کے کنزرویٹر مقبول الحسن دشتی پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف منصوبوں میں ۲۶۰ ملین روپے سے زائد کی فراڈ کی۔ ان منصوبوں میں مینگروو ریسرچ سینٹر کی تعمیر، شجرکاری، زمین کی ہمواری، نرسریوں کی ترقی، ریسٹ ہاؤسز اور دیگر تعمیراتی کام شامل ہیں ۔


مینگروو ریسرچ سینٹر کے منصوبے میں ۲۶۰ ملین روپے کی خرد برد کیسے ہوئی؟

تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ان میں سے بیشتر منصوبے یا تو کاغذات پر مکمل دکھا دیے گئے، جبکہ زمینی حقیقت میں یا تو وہ نامکمل تھے، یا انتہائی ناقص اور کم معیار کے تعمیر کیے گئے ۔ ایک اور سنگین بے ضابطگی یہ سامنے آئی کہ فنڈز کی ایک بڑی رقم ایڈوانس ادائیگیوں کے طور پر جاری کی گئی، جسے بعد میں ہتھیانے کی کوشش کی گئی ۔


سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کے منصوبے محکمہ جنگلات نے کیوں ختم کیے؟

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ تمام کام محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) کو دئیے جانے تھے، لیکن مبینہ طور پر اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے انہیں محکمہ جنگلات کے ذریعے مکمل کروایا گیا۔ ماہرین کے مطابق، ایسا کرنے کا مقصد غالباً ٹینڈر کے طریقہ کار کو نظرانداز کرنا اور اپنے منظور شدہ ٹھیکیداروں سے کام لینا تھا ۔


مفرور کنزرویٹر مقبول دشتی کی گرفتاری کے لیے کیا کارروائی ہو رہی ہے؟

انسدادِ بدعنوانی کے مطابق، کلیات ڈویژن کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے مقدمہ درج کرنے کے بعد ٹھیکیدار مہتاب عالم کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ کنزرویٹر مقبول الحسن دشتی اس وقت فرار ہیں۔ اے سی ای کی ٹیمیں ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہیں اور توقع ہے کہ وہ جلد ہی قانون کی گرفت میں آجائیں گے ۔


پاکستان میں سرکاری ٹھیکیدار کرپشن کیسز میں کیسے پھنستے ہیں؟

اس کیس نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ جب تک افسر اور ٹھیکیدار کی ملی بھگت نہ ہو، اس پیمانے پر فراڈ ممکن نہیں۔ ٹھیکیدار مہتاب عالم کی گرفتاری نے ان بینکاری رازوں سے پردہ اٹھایا ہے کہ کس طرح ایڈوانس ادائیگیوں اور جعلی رپورٹس کے ذریعے قومی خزانے کو لوٹا جاتا ہے ۔


عوام کے پیسوں کی لوٹ مار: کیا ہوگا انجام؟

یہ پہلا موقع نہیں جب بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے کرپشن کا شکار ہوئے ہوں، لیکن امید کی جارہی ہے کہ اے سی ای کی جانب سے کی جانے والی یہ کارروائی دوسرے بدعنوان افسران کے لیے عبرت کا باعث بنے گی۔ عوام طویل عرصے سے محکمانہ نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات سے محروم ہیں۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

سوال: بلوچستان میں ۲۶۰ ملین روپے کے کرپشن کیس میں کون ملوث ہے؟

جواب: اس کیس میں محکمہ جنگلات کے کنزرویٹر مقبول الحسن دشتی اور ٹھیکیدار مہتاب عالم مبینہ طور پر ملوث ہیں۔ یہ الزام ہے کہ انہوں نے مل کر ترقیاتی منصوبوں میں ۲۶۰ ملین روپے کی خرد برد کی ۔

سوال: اے سی ای بلوچستان نے کون سے منصوبوں میں بے ضابطگیاں دریافت کی ہیں؟

جواب: اے سی ای نے مینگروو ریسرچ سینٹر، شجرکاری، نرسری ڈویلپمنٹ، زمین کی لیولنگ اور ریسٹ ہاؤسز کی تعمیر میں سنگین مالی بے ضابطگیاں دریافت کی ہیں ۔

سوال: کنزرویٹر مقبول دشتی کی گرفتاری ہوئی یا نہیں؟

جواب: ابھی تک کنزرویٹر مقبول الحسن دشتی گرفتار نہیں ہوئے ہیں اور وہ مفرور ہیں۔ اے سی ای کی ٹیمیں ان کی تلاش میں چھاپے مار رہی ہیں ۔

سوال: محکمہ جنگلات کے منصوبے غیر قانونی طور پر کیوں کرائے گئے؟

جواب: یہ منصوبے دراصل محکمہ مواصلات و تعمیرات کو دئیے جانے تھے، لیکن مبینہ طور پر اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے خود محکمہ جنگلات نے یہ کام کرائے تاکہ ٹینڈر کے طریقہ کار کو نظرانداز کیا جا سکے ۔

سوال: اس کیس میں ٹھیکیدار کی کیا حیثیت ہے؟

جواب: ٹھیکیدار مہتاب عالم کو اے سی ای نے گرفتار کر لیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ ٹھیکیدار نے افسران کے ساتھ مل کر ایڈوانس ادائیگیوں کے ذریعے رقم ہتھیانے میں معاونت کی ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کیا ایرانین کمیونٹی یو اے ای کے ویزا منسوخ ہو رہے ہیں؟ حقیقت کیا ہے؟

پاکستان بھر میں مہنگائی کی نئی لہر اور حکومتی اقدامات: کیا عوام کو ریلیف ملے گا؟

سوڈانی اخوان المسلمون پر پابندی: دہشت گردی کے خلاف جنگ یا سیاسی فیصلہ؟