کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ ۷۳۷ بحیرہ عرب میں تباہ — ۵ عملے کی تلاش جاری

 

۷ جولائی ۲۰۲۶ کی شب ایک بوئنگ ۷۳۷-۴۰۰ کارگو طیارہ، جو کے ٹو ایئرویز کی ملکیت تھا، شارجہ سے کراچی آ رہا تھا کہ اس کا نیویگیشن سسٹم خراب ہو گیا۔ پائلٹ نے رات ۹:۱۸ بجے کراچی ایریا کنٹرول سینٹر کو اس خرابی کی اطلاع دی۔ صرف تین منٹ بعد، ۹:۲۱ بجے، ریڈار پر طیارہ تیزی سے نیچے گرتا ہوا دکھائی دیا اور اس کا رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا۔ طیارہ کراچی کے مغرب میں تقریباً ۲۸۷ کلومیٹر (۱۵۵ سمندری میل) کے فاصلے پر بحیرہ عرب میں گر کر تباہ ہو گیا۔


بوئنگ ۷۳۷ کے حادثے کی کیا وجہ ہے؟

ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارے کے نیویگیشن سسٹم میں خرابی تھی، جس کے بعد وہ تیزی سے نیچے گرا۔ فلائٹ ٹریکنگ سروس فلائٹ ریڈار ۲۴ کے مطابق طیارے نے اونچائی میں تیزی سے کمی کی، پھر اچانک چڑھائی کی، اور پھر دوسری بار انتہائی تیز رفتاری سے نیچے گر گیا۔ آخری ڈیٹا کے مطابق طیارہ صرف ۱۱۰۰ فٹ کی بلندی پر تھا اور ۲۲,۴۰۰ فٹ فی منٹ کی غیر معمولی رفتار سے نیچے گر رہا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حادثے کی اصل وجہ تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔


حادثے میں کتنے عملے کے افراد شامل تھے؟

اس کارگو طیارے میں ۵ عملے کے افراد سوار تھے جن کا تعلق پاکستان سے تھا۔ کے ٹو ایئرویز نے ان کی شناخت کیپٹن محمد رضوان ادریس، فرسٹ آفیسر فیصل جتوئی، لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان، انجینئر محمد عارف صدیقی اور محمد حامد کے طور پر کی ہے۔ تمام عملہ پاکستانی شہری تھے۔


پاکستان نیوی کا تلاش آپریشن کہاں جاری ہے؟

طیارے کے لاپتہ ہونے کے فوری بعد پاکستان نیوی اور ایئر فورس نے مشترکہ تلاش آپریشن شروع کر دیا۔ پاکستان نیوی نے جنگی جہاز پی این ایس ذوالفقار اور پی این ایس حنین کو علاقے میں بھیجا، جبکہ پاکستان ایئر فورس کا ایس اے اے بی طیارہ اور نیوی کا اے ٹی آر طیارہ بھی تلاش میں مصروف ہیں۔ تقریباً ۱۲ گھنٹے کی تلاش کے بعد بحریہ اور میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے ارمارا کے ساحل سے تقریباً ۱۰۰ کلومیٹر دور طیارے کا ملبہ دریافت کر لیا۔


کیا لاپتہ عملے کے افراد مل گئے ہیں؟

بدقسمتی سے ابھی تک ۵ عملے کے افراد میں سے کسی کا بھی سراغ نہیں ملا۔ پاکستان نیوی اور میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کی جانب سے گہرے پانیوں میں تلاش کا عمل جاری ہے۔ ریٹائرڈ ریئر ایڈمرل فیصل شاہ کے مطابق طیارے کا مرکزی ڈھانچہ ۳۰۰۰ میٹر گہرائی میں ہو سکتا ہے جس کی تلاش میں مہینوں یا سال لگ سکتے ہیں۔ سمندر میں تیز لہریں اور تیز ہوائیں تلاش کے عمل کو مزید مشکل بنا رہی ہیں۔


طیارہ حادثے کی تحقیقات کیسے ہوں گی؟

وزیراعظم شہباز شریف نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام وسائل استعمال کریں اور لاپتہ عملے کی تلاش کو تیز کریں۔ طیارے کا ملبہ تحقیقات کے لیے جمع کر لیا گیا ہے جس کا تجزیہ کیا جائے گا۔ اس حادثے کی تحقیقات میں نیویگیشن سسٹم کی خرابی، موسمی حالات اور انسانی عنصر سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ یہ واقعہ ۲۰۲۰ کے پی آئی اے کراچی طیارہ حادثے کی یاد تازہ کر رہا ہے۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کے ٹو ایئرویز کا طیارہ کب حادثے کا شکار ہوا؟

جواب: یہ طیارہ ۷ جولائی ۲۰۲۶ کی شب شارجہ سے کراچی آتے ہوئے بحیرہ عرب میں ۹:۲۱ بجے گر کر تباہ ہو گیا۔

سوال: حادثے میں کتنے افراد سوار تھے؟

جواب: اس طیارے میں ۵ عملے کے افراد سوار تھے جن کا تعلق پاکستان سے تھا۔

سوال: کیا عملے کے افراد مل گئے ہیں؟

جواب: نہیں، ابھی تک ۵ افراد میں سے کسی کا سراغ نہیں ملا اور تلاش کا عمل جاری ہے۔

سوال: طیارے کا ملبہ کہاں ملا؟

جواب: طیارے کا ملبہ ارمارا کے ساحل سے تقریباً ۱۰۰ کلومیٹر دور بحیرہ عرب میں ملا۔

سوال: کون سی ایجنسیاں تلاش آپریشن میں شامل ہیں؟

جواب: پاکستان نیوی، پاکستان ایئر فورس، پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن اس آپریشن میں شامل ہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کیا ایرانین کمیونٹی یو اے ای کے ویزا منسوخ ہو رہے ہیں؟ حقیقت کیا ہے؟

پاکستان بھر میں مہنگائی کی نئی لہر اور حکومتی اقدامات: کیا عوام کو ریلیف ملے گا؟

سوڈانی اخوان المسلمون پر پابندی: دہشت گردی کے خلاف جنگ یا سیاسی فیصلہ؟