اشاعتیں

جولائی, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

متحدہ عرب امارات کی حکمت عملی — صحت میں مصنوعی ذہانت کا مستقبل

تصویر
  متحدہ عرب امارات کی صحت میں مصنوعی ذہانت کی حکمت عملی کا مرکز صحت کی دیکھ بھال کو ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے جدید بنانا ہے . حکومت نے "بیہیویئر انٹیلیجنس مصنوعی ذہانت پلیٹ فارم" متعارف کرایا ہے جو صحت عامہ کے خطرات کی نشاندہی کرنے اور احتیاطی تدابیر کو بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتا ہے . یہ حکمت عملی صحت کی دیکھ بھال کو زیادہ موثر، درست اور قابل رسائی بنانے پر مرکوز ہے . دبئی ورلڈ ہیلتھ ایکسپو نے کیا ثابت کیا؟ دبئی ورلڈ ہیلتھ ایکسپو ۲۰۲۶ نے ثابت کیا کہ متحدہ عرب امارات صحت اور طبی ایجادات کے عالمی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے . اس تقریب میں دنیا بھر سے طبی ماہرین اور کمپنیوں نے شرکت کی اور جدید ترین ٹیکنالوجیز کا تبادلہ کیا . متحدہ عرب امارات نے اپنی جدید مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس ٹیکنالوجیز کا مظاہرہ کیا جس نے عالمی طبی برادری کو متاثر کیا . طبی روبوٹکس کے مستقبل میں متحدہ عرب امارات کا کیا کردار ہوگا؟ متحدہ عرب امارات طبی روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے مستقبل میں ایک اہم کردار ادا کرے گا . حکومت کی مالی معاونت، جدید انفراسٹرکچر، اور بین الاقوامی تعاون اسے...

پاکستان کا عالمی مصنوعی ذہانت تنظیم کا بانی رکن بننا — ایک تاریخی پیشرفت

تصویر
ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کوآپریشن آرگنائزیشن ایک آزاد بین الحکومتی عالمی تنظیم ہے جس کا صدر دفتر شنگھائی، چین میں ہوگا۔ اس تنظیم کا مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون اور عالمی نظم و نسق کو فروغ دینا ہے۔ یہ تنظیم اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں پر عمل پیرا ہوگی اور انسانی مرکزیت کے نقطہ نظر کو اپنائے گی تاکہ مصنوعی ذہانت کو انسانیت کے لیے مفید، محفوظ اور منصفانہ بنایا جا سکے۔ پاکستان عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کا بانی رکن کیسے بنا؟ پاکستان نے ۱۶ جولائی ۲۰۲۶ کو شنگھائی میں منعقدہ ایک تقریب میں عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کے قیام کے معاہدے پر دستخط کیے۔ نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے اس موقع پر پاکستان کی نمائندگی کی اور چین کی طرف سے چینی وزیرخارجہ وانگ یی نے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس تقریب میں ۲۹ ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی اور تمام ممالک اس تنظیم کے بانی ارکان بن گئے۔ عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کا صدر دفتر کہاں ہے؟ اس تنظیم کا صدر دفتر چین کے شہر شنگھائی میں قائم کیا جائے گا۔ اس کا اعلان چینی وزیراعظم لی چیانگ نے گزشتہ سال شنگھائی میں منعقدہ عالمی مصنو...

کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ ۷۳۷ بحیرہ عرب میں تباہ — ۵ عملے کی تلاش جاری

تصویر
  ۷ جولائی ۲۰۲۶ کی شب ایک بوئنگ ۷۳۷-۴۰۰ کارگو طیارہ ، جو کے ٹو ایئرویز کی ملکیت تھا، شارجہ سے کراچی آ رہا تھا کہ اس کا نیویگیشن سسٹم خراب ہو گیا۔ پائلٹ نے رات ۹:۱۸ بجے کراچی ایریا کنٹرول سینٹر کو اس خرابی کی اطلاع دی۔ صرف تین منٹ بعد، ۹:۲۱ بجے، ریڈار پر طیارہ تیزی سے نیچے گرتا ہوا دکھائی دیا اور اس کا رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا۔ طیارہ کراچی کے مغرب میں تقریباً ۲۸۷ کلومیٹر (۱۵۵ سمندری میل) کے فاصلے پر بحیرہ عرب میں گر کر تباہ ہو گیا۔ بوئنگ ۷۳۷ کے حادثے کی کیا وجہ ہے؟ ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارے کے نیویگیشن سسٹم میں خرابی تھی، جس کے بعد وہ تیزی سے نیچے گرا۔ فلائٹ ٹریکنگ سروس فلائٹ ریڈار ۲۴ کے مطابق طیارے نے اونچائی میں تیزی سے کمی کی، پھر اچانک چڑھائی کی، اور پھر دوسری بار انتہائی تیز رفتاری سے نیچے گر گیا۔ آخری ڈیٹا کے مطابق طیارہ صرف ۱۱۰۰ فٹ کی بلندی پر تھا اور ۲۲,۴۰۰ فٹ فی منٹ کی غیر معمولی رفتار سے نیچے گر رہا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حادثے کی اصل وجہ تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔ حادثے میں کتنے عملے کے افراد شامل تھے؟ اس کارگو طیارے میں ۵ عملے کے افراد سوار تھے ج...

سرکلر آئی ٹی: متحدہ عرب امارات میں پائیدار ٹیکنالوجی کا نیا دور

تصویر
  ایک وقت تھا جب ٹیکنالوجی خریدی جاتی، چند سال استعمال ہوتی، اور پھر پھینک دی جاتی — یہ "لکیری معیشت" کہلاتی تھی ۔ لیکن اب متحدہ عرب امارات میں سرکلر آئی ٹی ایک نیا تصور لے کر آئی ہے جہاں ٹیکنالوجی کو لمبے عرصے تک چلانے، مرمت کرنے، اور آخر کار ری سائیکل کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ تبدیلی واقعی متحدہ عرب امارات کی پائیداری کی راہ میں سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے؟ پس منظر: آئی ٹی حکام پائیداری کو ترجیح کیوں دے رہے ہیں؟ متحدہ عرب امارات میں آئی ٹی حکام پائیداری کو کیسے اپنا رہے ہیں؟ اس کا جواب حکومت کے خالص صفر ۲۰۵۰ کے ہدف میں ملتا ہے۔ کمپیوٹر ویکلی کی رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات میں آئی ٹی حکام اب پائیداری کو ایک الگ ماحولیاتی اقدام کے بجائے ٹیکنالوجی حکمت عملی کا بنیادی ستون بنا رہے ہیں ۔ یہ تبدیلی اس احساس سے پیدا ہوئی ہے کہ ڈیجیٹل تبدیلی اور ماحولیاتی پائیداری ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ آئی ٹی حکام سے اب توقع کی جاتی ہے کہ وہ جدت پیدا کریں اور ساتھ ہی اپنے آپریشنز کے ماحولیاتی اثرات کو کم کریں ۔ 🔗 کمپیوٹر ویکلی کی مکمل رپورٹ تجزیہ: سرکلر آئی ٹی ...

پاسپورٹ کو الوداع: متحدہ عرب امارات میں بائیو میٹرک سفر کا نیا دور

تصویر
  تصور کریں کہ آپ ہوائی جہاز سے اترتے ہیں، ایک جدید کوریڈور سے گزرتے ہیں، اور بغیر رکے، بغیر پاسپورٹ نکالے، بغیر کسی قطار میں کھڑے ہوئے امیگریشن کلیئر کر لیتے ہیں۔ یہ کوئی مستقبل کا خواب نہیں بلکہ متحدہ عرب امارات میں بغیر پاسپورٹ کے سفر کی حقیقت ہے، جو دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر "ریڈ کارپٹ" سمارٹ کوریڈور کے ذریعے ممکن ہو رہی ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جدید ترین ٹیکنالوجی کیسے کام کرتی ہے اور کیا یہ واقعی اتنی تیز ہے جتنا دعویٰ کیا جا رہا ہے؟ سمارٹ کوریڈور سے ریڈ کارپٹ تک دبئی ایئرپورٹ پر بغیر پاسپورٹ کے سفر کیسے ممکن ہے؟ اس کا جواب مصنوعی ذہانت اور بائیو میٹرک ٹیکنالوجی کے امتزاج میں ہے۔ دبئی نے ۲۰۲۰ میں ایک "سمارٹ ٹنل" متعارف کرائی تھی، لیکن ریڈ کارپٹ کوریڈور اس کا جدید ورژن ہے جو بیک وقت متعدد مسافروں کو پروسیس کر سکتا ہے ۔ یہ نظام جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریزیڈنسی اینڈ فارنرز افیئرز دبئی نے تیار کیا ہے اور یہ امارات کی "بغیر سرحدوں کے سفر" کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ہوائی سفر کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانا ہے ۔ UAE airports accelerate passport-fr...