پاسپورٹ کو الوداع: متحدہ عرب امارات میں بائیو میٹرک سفر کا نیا دور

 

تصور کریں کہ آپ ہوائی جہاز سے اترتے ہیں، ایک جدید کوریڈور سے گزرتے ہیں، اور بغیر رکے، بغیر پاسپورٹ نکالے، بغیر کسی قطار میں کھڑے ہوئے امیگریشن کلیئر کر لیتے ہیں۔ یہ کوئی مستقبل کا خواب نہیں بلکہ متحدہ عرب امارات میں بغیر پاسپورٹ کے سفر کی حقیقت ہے، جو دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر "ریڈ کارپٹ" سمارٹ کوریڈور کے ذریعے ممکن ہو رہی ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جدید ترین ٹیکنالوجی کیسے کام کرتی ہے اور کیا یہ واقعی اتنی تیز ہے جتنا دعویٰ کیا جا رہا ہے؟


سمارٹ کوریڈور سے ریڈ کارپٹ تک

دبئی ایئرپورٹ پر بغیر پاسپورٹ کے سفر کیسے ممکن ہے؟ اس کا جواب مصنوعی ذہانت اور بائیو میٹرک ٹیکنالوجی کے امتزاج میں ہے۔ دبئی نے ۲۰۲۰ میں ایک "سمارٹ ٹنل" متعارف کرائی تھی، لیکن ریڈ کارپٹ کوریڈور اس کا جدید ورژن ہے جو بیک وقت متعدد مسافروں کو پروسیس کر سکتا ہے ۔


یہ نظام جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریزیڈنسی اینڈ فارنرز افیئرز دبئی نے تیار کیا ہے اور یہ امارات کی "بغیر سرحدوں کے سفر" کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ہوائی سفر کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانا ہے ۔

ریڈ کارپٹ کوریڈور کیسے کام کرتا ہے؟

ریڈ کارپٹ کوریڈور کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟ یہ ایک مصنوعی ذہانت سے چلنے والی امیگریشن لین ہے جو چہرے اور آنکھ کی پتلی کی شناخت کے ذریعے آپ کی شناخت کو چلتے ہوئے تصدیق کرتی ہے — آپ کو رکنے، پاسپورٹ دکھانے، یا بورڈنگ پاس اسکین کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔


یہ نظام تین سادہ مراحل پر کام کرتا ہے:

۱۔ پری ویریفائیڈ سیکیورٹی: آپ کی مسافر اور دستاویز کی معلومات پہلے سے چیک کر لی جاتی ہیں

۲۔ بائیو میٹرک میچ: کیمروں کے ذریعے آپ کی شناخت پہلے سے رجسٹرڈ بائیو میٹرک ڈیٹا سے ملائی جاتی ہے

۳۔ بلا تعطل کلیئرنس: آپ کی تفصیلات خود بخود تصدیق ہو جاتی ہیں اور آپ گزر جاتے ہیں


دبئی ایئرپورٹ کا سمارٹ کوریڈور کتنے مسافروں کو پروسیس کر سکتا ہے؟ یہ نظام بیک وقت ۱۰ مسافروں کو پروسیس کر سکتا ہے اور مسافروں کو صرف ۳.۴ سیکنڈ میں کلیئر کر دیتا ہے — جبکہ روایتی طریقہ کار میں ۱۲.۵ سیکنڈ لگتے تھے ۔


شماریات: کتنے لوگ اس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں؟

متحدہ عرب امارات کے ہوائی اڈوں پر بائیو میٹرک سسٹم میں کیسے رجسٹر ہوں؟ رجسٹریشن ایک بار کی ہے، جو جی ڈی آر ایف اے ایپ، ایئرپورٹ کیوسک، یا پچھلے سفر کے دوران کی جا سکتی ہے ۔ ایک بار رجسٹر ہونے کے بعد، آپ کا چہرہ اور آنکھ کی پتلی مؤثر طریقے سے آپ کے سفر کی دستاویز بن جاتی ہے۔


اب تک ۸۰۰,۰۰۰ سے زائد مسافروں نے ریڈ کارپٹ سروس استعمال کی ہے، اور اہل مسافروں میں اس کو اپنانے کی شرح اپریل ۲۰۲۶ کے آخر تک ۸۳ فیصد تک پہنچ گئی تھی ۔


متحدہ عرب امارات اور بحرین کا مشترکہ منصوبہ

متحدہ عرب امارات اور بحرین کا سنگل ٹریول پوائنٹ پروجیکٹ کیا ہے؟ یہ ایک ایسا نظام ہے جس کے تحت مسافر اپنی روانگی کی ایئرپورٹ پر ہی منزل مقصود کے لیے درکار تمام امیگریشن، کسٹم، اور سیکیورٹی چیکس مکمل کر لیتے ہیں، اور منزل پر پہنچنے کے بعد مزید کسی کارروائی کی ضرورت نہیں ہوتی ۔

اس منصوبے کا پائلٹ مرحلہ ابوظہبی کے زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور بحرین انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر شروع کر دیا گیا ہے ۔ اس نظام کے تحت سفر کا وقت ۵۰ فیصد تک کم ہو جائے گا اور ہوائی اڈوں پر بھیڑ کم ہو گی ۔


عالمی اثرات: خلیجی تعاون کونسل کی جانب ایک بڑا قدم

یہ منصوبہ خلیجی تعاون کونسل کے وسیع تر وژن کا پہلا آپریشنل قدم ہے، جس کا مقصد تمام چھ خلیجی ممالک کو ایک متحد سفری فریم ورک کے تحت منسلک کرنا ہے ۔ اس نظام کو کویت میں نومبر ۲۰۲۵ میں ہونے والے خلیجی تعاون کونسل کے وزرائے داخلہ کے ۴۲ویں اجلاس میں منظور کیا گیا تھا ۔


اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے سالوں میں سعودی عرب، کویت، عمان، اور قطر بھی اس نظام میں شامل ہو جائیں گے، جس سے خلیجی ممالک کے درمیان سفر تقریباً ملکی سفر کی طرح آسان ہو جائے گا ۔


سفر کا مستقبل آ گیا ہے

یہی وجہ ہے کہ متحدہ عرب امارات ایک بار پھر دنیا کو دکھا رہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور انسانی ہمدردی کا امتزاج کیسے ممکن ہے۔ یہ صرف پاسپورٹ کے بغیر سفر نہیں بلکہ ایک ایسے مستقبل کی طرف پہلا قدم ہے جہاں ہوائی سفر تیز، محفوظ، اور زیادہ آرام دہ ہو گا۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

دبئی ایئرپورٹ پر بغیر پاسپورٹ کے سفر کیسے ممکن ہے؟

دبئی ایئرپورٹ پر مصنوعی ذہانت اور بائیو میٹرک ٹیکنالوجی کے ذریعے چہرے اور آنکھ کی پتلی کی شناخت کی جاتی ہے۔ مسافر ریڈ کارپٹ کوریڈور سے گزرتے ہوئے بغیر رکے اور بغیر پاسپورٹ دکھائے کلیئرنس حاصل کر لیتے ہیں ۔

متحدہ عرب امارات کے ہوائی اڈوں پر بائیو میٹرک سسٹم میں کیسے رجسٹر ہوں؟

رجسٹریشن جی ڈی آر ایف اے ایپ، ایئرپورٹ کیوسک، یا پچھلے سفر کے دوران کی جا سکتی ہے۔ ایک بار رجسٹر ہونے کے بعد آپ کا چہرہ اور آنکھ کی پتلی آپ کے سفر کی دستاویز بن جاتی ہے ۔

کیا غیر ملکی سیاح بھی بغیر پاسپورٹ کے سفر کر سکتے ہیں؟

فی الحال یہ سہولت متحدہ عرب امارات کے شہریوں، رہائشیوں، اور رجسٹرڈ بار بار سفر کرنے والے مسافروں کے لیے ہے۔ تاہم اسے مستقبل میں تمام مسافروں تک توسیع دینے کا منصوبہ ہے ۔

بائیو میٹرک سسٹم میں ڈیٹا کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے؟

حکام کے مطابق بائیو میٹرک ڈیٹا کو انکرپٹ کیا جاتا ہے، ملک کے اندر محفوظ کیا جاتا ہے، اور سرکاری سیکیورٹی معیارات کے تحت محفوظ رکھا جاتا ہے ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کیا ایرانین کمیونٹی یو اے ای کے ویزا منسوخ ہو رہے ہیں؟ حقیقت کیا ہے؟

پاکستان بھر میں مہنگائی کی نئی لہر اور حکومتی اقدامات: کیا عوام کو ریلیف ملے گا؟

سوڈانی اخوان المسلمون پر پابندی: دہشت گردی کے خلاف جنگ یا سیاسی فیصلہ؟