مصنوعی ذہانت کا دو دھاری تلوار — متحدہ عرب امارات میں مواقع اور خطرات
گلف ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کو ۲۰۲۶ میں دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں شمار کیا گیا ہے۔ ایس او ایس انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق ملک میں استحکام، کم صحت کے خطرات اور جدید ترین انفراسٹرکچر موجود ہے ۔ تاہم یہ کامیابی اپنے ساتھ نئے چیلنجز بھی لے کر آئی ہے۔ مصنوعی ذہانت کو اگرچہ رسک مینجمنٹ میں ایک اہم ذریعہ قرار دیا گیا ہے، مگر اس کے ساتھ غلط معلومات اور جعلی مواد کے بڑھتے ہوئے خطرات بھی نمایاں ہیں ۔
متحدہ عرب امارات میں ڈیپ فیک کا خطرہ کتنا سنگین ہے؟
نوب فور کی تحقیق کے مطابق متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں ۸۸ فیصد ملازمین کا کہنا ہے کہ ڈیپ فیک آواز اور ویڈیو مواد اتنا حقیقت پسند بن چکا ہے کہ ان کے لیے اعتماد کرنا ناممکن ہو گیا ہے ۔ مزید برآں، ۵۲ فیصد ملازمین کھل کر تسلیم کرتے ہیں کہ وہ کام کے دوران ڈیپ فیک اسکیم کا شکار ہو سکتے ہیں ۔ یہ اعداد و شمار سنگین تشویش کا باعث ہیں، کیونکہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے حملے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
#عاجل| الإمارات بين الأعلى عالمياً في الأمان والمخاطر تدار بالذكاء الاصطناعيhttps://t.co/tujzb82AGq#صحيفة_الخليج#الخليج_الاقتصادي pic.twitter.com/gWSkbosveZ
— صحيفة الخليج (@alkhaleej) August 3, 2026
کیا تنظیمیں مصنوعی ذہانت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں؟
پروف پوائنٹ کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات میں ۹۲ فیصد تنظیموں نے مصنوعی ذہانت کے اسسٹنٹس کو پائلٹ مرحلے سے آگے بڑھا دیا ہے ۔ تاہم ۵۵ فیصد تنظیمیں سیکیورٹی کو "پکڑنے کی کوشش کرتی ہوئی، غیر مستقل یا ردعمل دینے والی" قرار دیتی ہیں ۔ مزید برآں، ۴۱ فیصد تنظیموں نے ایک مشکوک یا مصدقہ مصنوعی ذہانت سے متعلق واقعے کا سامنا کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خطرات اب حقیقی ماحول میں موجود ہیں ۔
کیا ڈیپ فیک کی شناخت کے لیے تربیت فراہم کی جا رہی ہے؟
مارش کی رپورٹ "پیپل رِسکس ۲۰۲۶" کے مطابق متحدہ عرب امارات میں صرف ۳۸ فیصد تنظیمیں ملازمین کو مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی غلط معلومات کی شناخت کی تربیت فراہم کر رہی ہیں ۔ صرف ۳۴ فیصد تنظیمیں مصنوعی ذہانت کے اوزاروں سے وابستہ سائبر سیکیورٹی کے خطرات پر تربیت دیتی ہیں، جبکہ صرف ۳۲ فیصد ملازمین کو ڈیٹا پرائیویسی کی خلاف ورزیوں سے بچنے کی تربیت فراہم کرتی ہیں ۔ یہ اعداد و شمار ایک خطرناک خلا کی نشاندہی کرتے ہیں۔
کیا مصنوعی ذہانت کے لیے کوئی گورننس فریم ورک موجود ہے؟
نوب فور کی تحقیق کے مطابق متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں ۲۴ فیصد تنظیموں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال غیر منظور شدہ یا بے ضابطہ ہے ۔ اس "شیڈو اے آئی" کا مطلب ہے کہ حساس تنظیمی ڈیٹا کو بغیر کسی نگرانی کے ہینڈل کیا جا رہا ہے۔ تاہم مرکزی بینک متحدہ عرب امارات نے مالیاتی اداروں کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر ایک رہنما اصول جاری کیا ہے جو شفافیت، احتساب اور ڈیٹا پرائیویسی پر زور دیتا ہے ۔
متحدہ عرب امارات میں سیکیورٹی کا مستقبل کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اور حفاظتی اقدامات کے درمیان فرق کو ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ ڈاکٹر مارٹن کریمر، سی آئی ایس او ایڈوائزر نوب فور، کا کہنا ہے کہ "سائبر سیکیورٹی ایک غیر مستحکم مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں تنظیمیں ایک ہائبرڈ انسانی اور مصنوعی ذہانت کی افرادی قوت کو محفوظ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جو سیکیورٹی لیڈروں کی رفتار سے زیادہ تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے" ۔ انسانوں اور مصنوعی ذہانت کے درمیان ہم آہنگی، مضبوط گورننس، اور بہتر تربیت ہی مستقبل کی کلید ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: کیا متحدہ عرب امارات میں ڈیپ فیک کا خطرہ حقیقی ہے؟
جواب: جی ہاں، نوب فور کی تحقیق کے مطابق ۸۸ فیصد ملازمین ڈیپ فیک کی شناخت میں ناکام ہیں اور ۵۲ فیصد اس کا شکار ہو سکتے ہیں ۔
سوال: کیا تنظیمیں مصنوعی ذہانت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تربیت فراہم کر رہی ہیں؟
جواب: صرف ۳۸ فیصد تنظیمیں ملازمین کو مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی غلط معلومات کی شناخت کی تربیت دیتی ہیں ۔
سوال: کیا متحدہ عرب امارات میں مصنوعی ذہانت کی گورننس کے لیے کوئی قوانین ہیں؟
جواب: جی ہاں، مرکزی بینک متحدہ عرب امارات نے مالیاتی اداروں کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر رہنما اصول جاری کیے ہیں ۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubts Please let me know