تمام جدید دہشت گردی کی جڑ" - امریکہ کی نظر میں مسلم برادرہ کی نئی شناخت
واشنگٹن ڈی سی۔ امریکہ نے اپنی تازہ ترین انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی میں ایک تاریخی اور متنازعہ قدم اٹھاتے ہوئے مسلم برادرہ کو "تمام جدید اسلام پسند دہشت گردی کی جڑ" قرار دے دیا ہے۔ چھ مئی دو ہزار چھبیس کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ اس دستاویز کے مطابق، القاعدہ، داعش، حماس اور دیگر تمام جہادی تنظیموں کا فکری اور نظریاتی پس منظر اسی تنظیم سے جڑتا ہے۔ اس فیصلے کو قومی سلامتی کونسل میں انسدادِ دہشت گردی کے سینئر ڈائریکٹر ڈاکٹر سیبسٹین گورکا نے "ایک ٹیکٹونک لمحہ" قرار دیا ہے۔ ذیل میں ہم اس پالیسی کے مختلف پہلوؤں، اس کے عالمی اثرات اور مختلف ممالک کے ممکنہ ردعمل کا تجزیہ کریں گے۔
مسلم برادرہ کیا ہے اور اس کا قیام کب ہوا؟
مسلم برادرہ ایک ایسی تنظیم ہے جس کی بنیاد مصر میں انیس سو اٹھائیس میں حسن البنا نے رکھی تھی۔ یہ تنظیم خلافت عثمانیہ کے خاتمے اور مغربی ثقافت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف ایک ردعمل کے طور پر معرض وجود میں آئی۔ اس کا بنیادی نصب العین "اللہ کے قانون کی بالادستی" اور "خلافت اسلامیہ" کا قیام تھا۔ گزشتہ ایک صدی میں یہ تنظیم دنیا بھر میں پھیل گئی اور اس کی شاخیں مشرق وسطیٰ، یورپ، ایشیا اور شمالی امریکہ میں قائم ہوگئیں۔
امریکہ نے مسلم برادرہ کو دہشت گرد تنظیم کیوں قرار دیا؟
امریکہ کے مطابق مسلم برادرہ صرف ایک سماجی یا سیاسی تنظیم نہیں بلکہ ایک خطرناک نظریاتی مشین ہے۔ سیبسٹین گورکا کے مطابق، ان تنظیموں کی بنیادی دستاویزات پڑھ لی جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ جدید دور کی سب سے بڑی جہادی تنظیم ہے۔ امریکی حکمت عملی کی دستاویز میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ تنظیم "غیر مسلموں کو قتل کرنے یا غلام بنانے" کی وکالت کرتی ہے۔ مزید برآں، لبنان کی شاخ نے حزب اللہ کے ساتھ مل کر اسرائیل پر راکٹ حملے کیے تو مصر اور اردن کی شاخیں حماس کو مالی اور لاجسٹک معاونت فراہم کرتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنوری دو ہزار چھبیس میں ان تینوں شاخوں کو دہشت گرد قرار دیا گیا اور اب پالیسی کے تحت باقی شاخوں کو بھی اس فہرست میں شامل کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
The US has announced a new counterterrorism strategy, which claims for the first time ever that the Muslim Brotherhood is the originator of both Al-Qaeda and the Islamic State extremist grouphttps://t.co/W4iP5RJuFQ
— The New Arab (@The_NewArab) May 8, 2026
مسلم برادرہ اور القاعدہ میں کیا تعلق ہے؟
یہ سوال اہم ہے کہ آخر القاعدہ جیسی تنظیم کا اس سے کیا تعلق ہے۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، ایمن الظواہری، جو القاعدہ کے دوسرے کمانڈر تھے اور اسامہ بن لادن کے ساتھ تھے، ان کا تعلق بھی مسلم برادرہ سے تھا۔ درحقیقت، سیّد قطب کے نظریات، جنہیں پھانسی دی گئی تھی، نے انتہا پسند گروپوں کو جہاد کا نیا فلسفہ فراہم کیا۔ امریکی دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ کوئی بھی جدید جہادی گروپ ایسا نہیں جس کی جڑیں کسی نہ کسی طور پر اس تحریک سے نہ جڑی ہوں۔
اس فیصلے کے بعد ترکیہ اور قطر جیسے ممالک کی پوزیشن بھی زیر بحث آگئی ہے، جن پر امریکہ نے مسلم برادرہ کو سیاسی اور مالی پناہ دینے کا الزام لگایا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ یورپی ممالک فوری طور پر اس نامزدگی کی پیروی نہیں کریں گے، تاہم اس سے مسلم برادرہ کے لیے مغربی ممالک میں کام کرنے کی جگہ ضرور محدود ہوگی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسلم برادرہ کے تمام شعبے پرتشدد ہیں؟ امریکہ خود تسلیم کرتا ہے کہ کچھ شاخیں سیاسی عمل کا حصہ ہیں، لیکن واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ یہ شاخیں بھی بالواسطہ طور پر تشدد کی راہ ہموار کرتی ہیں۔
متواتر سوالات
سوال: کیا مسلم برادرہ صرف مصر تک محدود تنظیم ہے؟
جواب: نہیں، مسلم برادرہ ایک بین الاقوامی نیٹ ورک ہے جس کی شاخیں اردن، شام، لیبیا، تیونس، سوڈان اور یورپ و امریکہ میں بھی موجود ہیں۔ یہ ایک وسیع و عریض عالمی تحریک ہے۔
سوال: کیا مسلم برادرہ کے تمام ارکان دہشت گردی میں ملوث ہیں؟
جواب: امریکہ کے مطابق، تمام ارکان براہ راست تشدد میں ملوث نہیں، لیکن تنظیم کا بنیادی ڈھانچہ اور نظریہ انتہا پسندی کو فروغ دیتا ہے۔ انفرادی طور پر کچھ شاخیں پرامن سیاسی عمل میں حصہ لیتی ہیں۔
سوال: کیا اس فیصلے سے فلسطینی مزاحمت متاثر ہوگی؟
جواب: حماس کو مسلم برادرہ کی ایک شاخ قرار دیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے حماس کے فنڈنگ ذرائع پر پابندیاں مزید سخت ہوسکتی ہیں اور اس پر بین الاقوامی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
سوال: کیا اس پالیسی پر عالمی سطح پر اتفاق رائے ہے؟
جواب: نہیں، یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے ابھی تک مسلم برادرہ کو پوری طرح دہشت گرد قرار نہیں دیا۔ ترکیہ اور قطر اس امریکی مؤقف کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubts Please let me know