سابق را سربراہ کا اعتراف: پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش ناکام
بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی را کے سابق را سربراہ اے ایس دلات نے ایک انٹرویو میں کھل کر اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کرنے کی بھارت کی تمام تر کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ یہ اعتراف ایسے وقت میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے جب بھارت خود مختلف محاذوں پر سفارتی دباؤ کا شکار ہے۔
سابق را سربراہ نے پاکستان کے بارے میں کیا کہا؟
سابق را سربراہ اے ایس دلات نے بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ بھارت نے شروع سے ہی پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی بھرپور کوششیں کیں، لیکن کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف جنگ اور اسے عالمی طور پر الگ تھلگ کرنے کی پالیسی نے بھارت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔
دلات نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کبھی ٹوٹے گا نہیں - یہ ایک ایسی غلط فہمی ہے جو بھارتی حلقوں میں پائی جاتی تھی۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان مذاکرات ہی واحد عملی راستہ ہیں۔
Pakistan is unbreakable: A.S Dulat interview to BBC
— The Pakistan Telegraph (@TelegraphPak) May 15, 2026
In a stunning BBC interview, former RAW Chief A.S. Dulat didn't just label Modi’s policies a failure; he acknowledged the undeniable reality that Pakistan is unbreakable.
After decades of intelligence operations, India’s top… pic.twitter.com/bviztv11eL
بھارت پاکستان کو الگ تھلگ کرنے میں کیوں ناکام رہا؟
سابق انٹیلیجنس چیف نے تفصیل سے بتایا کہ بھارت نے تمام وسائل، بین الاقوامی لابنگ اور پراکسی چینلز کو استعمال کرنے کے باوجود پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کرنے میں کامیابی حاصل نہ کی۔ اس ناکامی کی بڑی وجہ خود پاکستان کی فعال اور ذمہ دارانہ خارجہ پالیسی ہے۔
پاکستان نے گزشتہ چند ماہ کے دوران خود کو خطے میں ایک ثالث اور استحکام قائم کرنے والی قوت کے طور پر منوایا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا، جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔
کیا بھارت خود عالمی سفارتی تنہائی کا شکار ہے؟
سابق را سربراہ اے ایس دلات نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ موجودہ صورتحال میں بھارت خود سفارتی اور سیاسی تنہائی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ بیان اس لیے انتہائی اہم ہے کہ یہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے اندر پائی جانے والی مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان کے ایک ذمہ دار اور فعال ثالث کے طور پر ابھرنے نے بھارت کو ایک مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کو بھی پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار پر ناپسندیدہ زبان استعمال کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بین الاقوامی پذیرائی کیوں؟
دلات نے پاکستان کی فوجی قیادت کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بین الاقوامی سطح پر زبردست توجہ اور پذیرائی حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اپنا "پسندیدہ فیلڈ مارشل" قرار دیا ہے۔
یہ پذیرائی پاکستان کے مثبت سفارتی کردار اور خطے میں امن کے لیے کوششوں کا نتیجہ ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی نے پاکستان کی قیادت کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کیوں ضروری ہیں؟
سابق را سربراہ نے زور دے کر کہا کہ کشمیر سمیت تمام تر تنازعات کا حل مذاکرات کے علاوہ ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کا سلسلہ کبھی بند نہیں ہونا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق دلات کا یہ بیان بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے سخت گیر موقف کو ایک بڑا جھٹکا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ بار بار کی جارحانہ پالیسیوں اور فوجی تصادم نے طویل مدتی مسائل حل کرنے کی بجائے خطے میں کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: سابق را سربراہ نے پاکستان کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: اے ایس دلات نے کہا کہ پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کی بھارتی کوششیں ناکام ہوئیں اور پاکستان کبھی ٹوٹے گا نہیں۔
سوال: پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار کیسے ادا کر رہا ہے؟
جواب: پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کرتے ہوئے چودہ روزہ جنگ بندی کروانے میں اہم کردار ادا کیا جو بعد میں بڑھا دی گئی۔
سوال: کیا بھارت خود عالمی تنہائی کا شکار ہے؟
جواب: سابق را سربراہ کے مطابق موجودہ صورتحال میں بھارت خود سفارتی اور سیاسی تنہائی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
سوال: کشمیر تنازع کا حل کیا ہے؟
جواب: دلات کے مطابق کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل مذاکرات کے علاوہ ممکن نہیں، دونوں ممالک کو بات چیت جاری رکھنی چاہیے۔
سوال: بھارت کی جارحانہ پالیسیوں کے کیا اثرات ہوئے؟
جواب: جارحانہ پالیسیوں نے طویل مدتی مسائل حل کرنے کی بجائے خطے میں کشیدگی میں اضافہ کیا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubts Please let me know