پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف – عیدالاضحیٰ تک مارکیٹیں رات گئے تک کھلی رہیں گی
پنجاب حکومت نے مارکیٹوں کے بندش کے اوقات میں نرمی کر دی ہے اور تاجروں کی طویل عرصے سے مانگی جانے والی اہم خواہش کو پورا کرتے ہوئے شام آٹھ بجے مارکیٹ بند کرنے کی پابندی کو یکم جون تک کے لیے ختم کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ عیدالاضحیٰ کے سیزن میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے اور عوام کو خریداری میں آسانی فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق تمام مارکیٹیں، شاپنگ مالز، ہوٹل اور ریستوران یکم جون تک مقررہ بندش کے اوقات سے مستثنیٰ ہوں گے ۔
پس منظر: کب اور کیوں لگائی گئی تھی پابندی؟
یاد رہے کہ چھ اپریل کو وفاقی حکومت نے توانائی بچانے کے لیے ملک بھر میں مارکیٹوں کو شام آٹھ بجے بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ فیصلہ ایران پر امریکی اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عالمی ایندھن کی قلت کے پیش نظر کیا گیا تھا ۔ پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت کے اس فیصلے پر عمل کرتے ہوئے تمام مارکیٹوں اور شاپنگ مالز کو شام آٹھ بجے بند کرنے کا حکم جاری کیا تھا جبکہ ہوٹل اور ریستوران شام دس بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت تھی۔ تاہم اس فیصلے کے خلاف تاجروں میں شدید بے چینی پائی جاتی تھی اور وہ طویل عرصے سے اس پابندی میں نرمی کا مطالبہ کر رہے تھے ۔
تاجروں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیوں کیا؟
تاجروں نے مارکیٹوں کے اوقات میں تبدیلی کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے بروقت اور کاروبار دوست اقدام قرار دیا ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اس فیصلے کو معاشی بحالی کے لیے مثبت قدم قرار دیا ہے ۔ راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عثمان شوکت نے اس موقع پر کہا کہ یہ فیصلہ عیدالاضحیٰ کی مصروف خریداری کے سیزن میں تاجروں اور صارفین کو درکار ریلیف فراہم کرے گا ۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ گرمیوں کے موسم میں لوگ شام کے بعد ہی بازاروں کا رخ کرتے ہیں اور اس لیے شام آٹھ بجے مارکیٹ بند کرنا کاروبار کے لیے انتہائی نقصان دہ تھا۔ راولپنڈی ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر شاہد غفور پراچہ نے کہا کہ تاجر پہلے ہی مالی بحران کا شکار ہیں اور اس سے قبل مارکیٹوں کے جلدی بند ہونے کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا تھا ۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا کاروباری برادری کیلئے بڑا ریلیف!
— Government of Punjab (@GovtofPunjabPK) May 15, 2026
دکانوں، مارکیٹس، شاپنگ مالز، ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور فوڈ آؤٹ لیٹس کو یکم جون 2026 تک مقررہ اوقاتِ بندش سے استثنیٰ دے دیا گیا@MaryamNSharif pic.twitter.com/mK62aCXkVB
عیدالاضحیٰ کی خریداری پر کیا اثر پڑے گا؟
عیدالاضحیٰ کی خریداری پر اس فیصلے کا بہت مثبت اثر پڑے گا۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے نہ صرف کاروباری سرگرمیاں تیز ہوں گی بلکہ عوام کو خریداری کے لیے زیادہ وقت ملے گا۔ اینارکلی، لبرٹی مارکیٹ، اچھرہ، حال روڈ، ٹاؤن شپ اور دیگر تجارتی علاقوں میں رات گئے تک رش رہنے کی توقع ہے ۔
یہ فیصلہ خاص طور پر خواتین کے لیے بہت سہولت کا باعث بنے گا کیونکہ وہ دن کے اوقات میں گھریلو مصروفیات کی وجہ سے بازار نہیں جا پاتی تھیں۔ اب وہ شام کے اوقات میں آرام سے عید کی خریداری کر سکیں گی۔
ڈپٹی کمشنر لاہور کا کہنا
ڈپٹی کمشنر لاہور علی عنان قمر نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شام آٹھ بجے کی پابندی فوری طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد تاجروں کو ریلیف فراہم کرنا اور شہریوں کے لیے خریداری کو مزید آسان بنانا ہے ۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ تاجروں کی مشکلات کو سمجھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے اور اب کاروباری مراکز رات گئے تک کھلے رہ سکیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ محکموں کو اس فیصلے پر فوری عملدرآمد کی ہدایت کر دی گئی ہے ۔
معیشت پر اثرات
اس فیصلے سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ مارکیٹوں کے دیر تک کھلے رہنے سے نہ صرف فروخت میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق کاروباری اوقات میں توسیع سے ملازمتوں کے تحفظ میں مدد ملے گی اور مجموعی معاشی استحکام میں اضافہ ہوگا ۔
ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر کاروبار میں اضافہ ملکی معیشت کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس فیصلے سے ٹیکس کی مد میں بھی اضافہ متوقع ہے جس سے حکومت کو عوامی فلاح کے منصوبوں کے لیے فنڈز فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
کیا یہ نرمی عید کے بعد بھی جاری رہے گی؟
یہ نرمی عید کے بعد بھی جاری رہنے کے امکانات ہیں کیونکہ تاجروں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس پابندی کو مستقل ختم کر دے۔ راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی قیادت نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت کاروباروں کو سپورٹ کرنے اور مارکیٹ میں اعتماد برقرار رکھنے کے لیے یکم جون کے بعد بھی اوقات میں توسیع پر غور کرے گی ۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ نرمی عید کے بعد بھی جاری رہی تو اس سے مستقل بنیادوں پر کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ تاہم حکومت نے فی الحال صرف یکم جون تک کے لیے یہ استثنیٰ دیا ہے۔
دیگر صوبوں میں صورت حال
خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی عوام کی سہولت اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اپنے صوبے میں پابندیوں میں نرمی کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔
خیبرپختونخوا حکومت نے تجارتی مراکز کی بندش کے اوقات میں نرمی کے لیے اصولی طور پر اتفاق کر لیا ہے۔ گورنر کا کہنا تھا کہ مارکیٹوں کے اوقات میں توسیع سے تاجروں کو ہونے والے مالی نقصانات میں کمی آئے گی۔
ایک قابلِ ستائش اقدام
پنجاب حکومت کی جانب سے مارکیٹوں کے بندش کے اوقات میں نرمی ایک قابلِ ستائش اقدام ہے جو تاجروں اور عوام دونوں کے مفاد میں ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف عیدالاضحیٰ کی خریداری کو آسان بنائے گا بلکہ معیشت کو بھی فروغ دے گا۔ تاجروں نے اس کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ہے کہ حکومت عوام اور کاروباری برادری کی سہولت کے لیے مستقبل میں بھی ایسے ہی کاروبار دوست فیصلے جاری رکھے گی۔
FAQ (اکثر پوچھے گئے سوالات)
سوال: پنجاب حکومت نے مارکیٹوں کے بندش کے اوقات میں نرمی کیوں کی؟
جواب: پنجاب حکومت نے تاجروں کے احتجاج اور شاپنگ مالز ایسوسی ایشن کی اپیلوں کے پیش نظر عوام اور تاجروں کو ریلیف دینے کے لیے مارکیٹوں کے بندش کے اوقات میں نرمی کی ۔
سوال: مارکیٹیں اب کتنے بجے تک کھلی رہیں گی؟
جواب: اب مارکیٹوں، شاپنگ مالز اور ریستوران کے لیے کوئی مقررہ بندش کا وقت نہیں ہے اور وہ یکم جون دو ہزار چھبیس تک رات گئے تک کھلے رہ سکتے ہیں ۔
سوال: کیا خیبرپختونخوا نے بھی مارکیٹوں کے اوقات میں نرمی کر دی ہے؟
جواب: جی ہاں، خیبرپختونخوا کے گورنر اور وزیراعلیٰ نے عوام کی سہولت کے لیے اپنے صوبے میں بھی پابندیوں میں نرمی کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔
سوال: کیا یہ نرمی عید کے بعد بھی جاری رہے گی؟
جواب: فی الحال یہ نرمی یکم جون تک کے لیے دی گئی ہے، تاہم تاجروں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اسے مستقل کر دے ۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubts Please let me know