پاکستان کی دانشمندانہ چال: ہرمز کی بندش میں ایران کو چھ نئے تجارتی راستے
حالیہ ہفتوں میں مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورت حال نے عالمی تجارت کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ ہرمز آبنائے کی بندش اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے نتیجے میں ہزاروں کنٹینرز کراچی کی بندرگاہ پر رک کر رہ گئے تھے ۔ ایسے میں پاکستان ایران ٹرانزٹ راستے ایک امید کی کرن بن کر ابھرے ہیں۔ حکومت پاکستان نے بروقت فیصلہ کرتے ہوئے چھ زمینی راستوں کو باضابطہ طور پر فعال کر دیا ہے جس سے نہ صرف ایران کو سامان کی ترسیل ممکن ہوگی بلکہ پاکستان بھی علاقائی ٹرانزٹ مرکز کے طور پر ابھرے گا۔
پس منظر: ہرمز کی ناکہ بندی اور اس کے اثرات
آپ کو یاد ہوگا کہ 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد علاقے میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی تھی ۔ اپریل کے وسط میں امریکہ نے ہرمز آبنائے پر بحری ناکہ بندی نافذ کر دی ۔ یہ آبنائے عالمی تیل کی سپلائی کا پانچواں حصہ برداشت کرتی ہے، اور اس کی بندش کا مطلب تھا کہ ایران کو درآمد و برآمد میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ذرائع کے مطابق، کراچی بندرگاہ پر 3,000 سے زائد کنٹینرز جو ایران جانے والے تھے، پھنس گئے تھے ۔ ان میں خوراک، ادویات اور دیگر اشیاء شامل تھیں۔ ایرانی حکام نے فوری طور پر متبادل زمینی راستوں پر کام شروع کر دیا، اور پاکستان نے ایک بار پھر اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔
پاکستان کا تاریخی فیصلہ: چھ راستے طے
25 اپریل 2026 کو وزارت تجارت پاکستان نے ایک اہم اسٹیٹیوٹری ریگولیٹری آرڈر جاری کیا جس کا نام تھا "ٹرانزٹ آف گڈز تھرو ٹیریٹری آف پاکستان آرڈر 2026" ۔ اس آرڈر کے تحت درج ذیل چھ راستے طے پائے:
گوادر تا گبد
کراچی/پورٹ قاسم — لیاری — اورماڑہ — پسنّی — گبد
کراچی/پورٹ قاسم — خضدار — دالبندین — تفتان
گوادر — تربت — ہوشاب — پنجگور — نگ — بیسیمہ — خضدار — کوئٹہ/لیک پاس — دالبندین — نوكندی — تفتان
گوادر — لیاری — خضدار — کوئٹہ/لیک پاس — دالبندین — نوكندی — تفتان
کراچی/پورٹ قاسم — گوادر — گبد
یہ راستے پاکستان اور ایران کے درمیان 2008 میں ہونے والے روڈ ٹرانزٹ معاہدے کے تحت بنائے گئے ہیں ۔
تحلیل: اس اقدام کے سیاسی اور معاشی اثرات
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ اقدام صرف تجارتی ہے یا اس کے پوشیدہ سیاسی اثرات بھی ہیں؟ درحقیقت، پاکستان نے نہ صرف ایک پڑوسی ملک کی مدد کی ہے بلکہ عالمی سطح پر اپنی مثبت تصویر بھی پیش کی ہے۔
اس سے قبل پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے لیے ثالثی کے کردار ادا کیے تھے ۔ چین، ترکی اور سعودی عرب کے ہمراہ پاکستان نے دو ہفتے کی جنگ بندی کرانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اب ٹرانزٹ راستے دینا اس سفارتی کامیابی کو مزید تقویت دیتا ہے۔
اسی تناظر میں، بھارت اس معاملے میں کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ چابہار بندرگاہ میں بھاری سرمایہ کاری کے باوجود امریکی پابندیوں اور اپریل 2026 کی ڈیڈ لائن کی وجہ سے بھارت اپنی پوزیشن مضبوط نہ بنا سکا ۔ پاکستان نے یہ خلا اچھی طرح پر کیا ہے۔
عالمی اثرات: امریکہ اور چین کا کردار
اس پوری صورتحال میں چین کا کردار بھی اہم ہے۔ سی پیک کے تحت گوادر بندرگاہ کو وسطی ایشیا سے ملانے کا خواب اب حقیقت بنتا دکھائی دے رہا ہے ۔ پاک ایران ٹرانزٹ راہداری چین کی خواہش کے مطابق ہے۔ دوسری طرف، امریکہ نے بھی اس اقدام پر کوئی اعتراض نہیں کیا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایران پر دباؤ ڈالنے کا ایک طریقہ اس کی تجارت کو مکمل طور پر روکنا نہیں بلکہ کنٹرول کرنا ہے۔
تاہم، ایک خطرہ یہ بھی ہے کہ اگر ایران مزید امریکی پابندیوں کی زد میں رہا تو پاکستان بھی غیر ارادی طور پر ان کا شکار ہو سکتا ہے۔ لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان نے اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے یہ قدم اٹھایا ہے۔
پاکستان کا یہ اقدام درحقیقت ایک نیا باب ہے۔ ہزاروں کنٹینرز جو کبھی کراچی کی بندرگاہ پر کھڑے تھک رہے تھے، اب ان راستوں سے ایران پہنچ سکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ کاروباری حلقوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو پاکستان نہ صرف اپنی معیشت کو مستحکم کرے گا بلکہ پورے خطے میں امن اور خوشحالی کا ذریعہ بنے گا۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اسے "ایک قابل ذکر کامیابی" قرار دیا ہے ۔
FAQs
سوال: پاکستان نے ایران کو کتنے ٹرانزٹ راستے فراہم کیے ہیں؟
جواب: پاکستان نے کل چھ زمینی راستوں کو باضابطہ طور پر ٹرانزٹ تجارت کے لیے فعال کیا ہے۔ یہ راستے گوادر اور کراچی سے شروع ہو کر ایران کے مختلف شہروں، خاص طور پر گبد اور تفتان، پر ختم ہوتے ہیں ۔
سوال: ہرمز آبنائے کی بندش سے پاکستان کی بندرگاہوں پر کتنے کنٹینرز پھنس گئے؟
جواب: اطلاعات کے مطابق کراچی بندرگاہ پر تقریباً 3,000 سے زائد کنٹینرز جو ایران جانے والے تھے، پھنس گئے ہیں ۔ ان میں خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء شامل ہیں۔
سوال: ان ٹرانزٹ راستوں پر سامان کی ترسیل کے لیے کیا شرط رکھی گئی ہے؟
جواب: حکومت پاکستان نے تمام ٹرانزٹ سامان کے لیے کسٹم گارنٹی (encashable bank guarantee) لازمی قرار دی ہے ۔ یہ گارنٹی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ سامان پاکستان میں غیر قانونی طور پر داخل نہ ہو۔
سوال: کیا ان راستوں سے صرف ایران ہی کو فائدہ ہوگا؟
جواب: نہیں، اس سے پاکستان کو بھی بڑا فائدہ ہوگا۔ پاکستان علاقائی ٹرانزٹ مرکز بن کر ابھرے گا۔ پہلے ہی ایک کھیپ منجمد گوشت کی کراچی سے تاشقند (ازبکستان) بھیجی جا چکی ہے ۔
.png)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubts Please let me know