پیپلزپارٹی کی سینیٹرشیری رحمان نے وفاقی


 پیپلزپارٹی کی سینیٹرشیری رحمان نے وفاقی وزراء کی ایوان میں عدم حاضری پر برہمی کااظہار خیال کرتے ہوئے کہناتھا کہ انتہائی اہم ایشو پر بات ہورہی ہے ،ایجنڈا ختم کرکے سانحہ ترلائی پر بات ہورہی ہے ،ایک بھی وفاقی وزیر آج ایوان میں نہیں ہے ،وفاقی وزراء کی پوری فوج ہےیہ ایوان کو اہمیت نہیں دیتے،صرف وفاقی وزیر قانون ہی وقفہ سوالات میں جوابات دیتے ہیں۔

شیری رحمان کاکہناتھا کہ دہشتگردی کے خلاف ہمارے سیکیورٹی اداروں اور سویلین نے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں،محرومیوں اور نظریئےکی وجہ سے جو لوگ غلط راہ کا شکار ہوئے ان کو قومی دھارے میں لانے کا پروگرام بنایا گیا،یہ جو دہشتگردی ہورہی ہے اس پر سب کا ذہن کلیئر ہو یہ دہشتگردی ہی ہے ،آج تک ہمیں کوئی بریفنگ نہیں دی گئی وفاقی وزیر داخلہ ہی دے دیں۔ پیپلزپارٹی کی سینئر سینیٹر کاکہناتھا کہ پولیس اور سیکیورٹی ادارے عوام اور ایوان کی حمایت سے لڑرہے ہیں،ہم نے القائدہ کو پاکستان سمیت پورے خطے سے باہر نکالا،پاکستان دہشتگردی کا جواب دے گاریاست ایسی نہیں ہوتی کہ آپ تھپڑ مارتے رہیں ،ٹی ٹی پی کیا ہے بانی پی ٹی آئی نے آپ کو دفتر دیئے جگہ دی ،طالبان خان ان کا نام ایسے ہی نہیں رکھا تھا۔ شیری رحمن کی تقریر کے دورن اپوزیشن بینچز سے غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کیا گیا،حکومتی بینچز سے اپوزیشن بینچز سے استعمال ہونے والے الفاظ پر احتجاج کیا گیا۔ حکومتی بینچز اور اپوزیشن بینچز سے اراکین نے ایک دوسرے پر جملے کسے،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے اپوزیشن بینچز سے استعمال ہونےوالے الفاط حذف کر دئیے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کیا ایرانین کمیونٹی یو اے ای کے ویزا منسوخ ہو رہے ہیں؟ حقیقت کیا ہے؟

پاکستان بھر میں مہنگائی کی نئی لہر اور حکومتی اقدامات: کیا عوام کو ریلیف ملے گا؟

سوڈانی اخوان المسلمون پر پابندی: دہشت گردی کے خلاف جنگ یا سیاسی فیصلہ؟