وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا
وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ 28ویں ترمیم میں لوکل گورنمنٹ کو بااختیار بنانے کی تجویز تھی، مگر اتفاق ہونے کے باوجود اس سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ 18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی کیونکہ اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں، کراچی میں جو واقعات ہو رہے ہیں، وہ اس بات کے متقاضی ہیں کہ کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں ایک موثر نظام ہونا چاہیے جس کے ذریعے اختیارات صوبائی دارالحکومتوں سے ضلع، تحصیل اور وارڈ کی سطح پر منتقل ہوں۔ خواجہ آصف کے مطابق نہ تو کہیں مؤثر لوکل گورنمنٹ ہے، اور جہاں ہے وہاں بھی اختیارات نہیں ہیں، پاکستانی عوام کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانے کے لیے ملک میں ایک مضبوط اور مؤثر لوکل گورنمنٹ سسٹم لانا ضروری ہے۔
جب تک آپ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کو بااختیار نہیں بنائیں گے تب تک یہ ہاؤس بے معنی ہوگا، اگر ہم نے واقعی پاکستان کے عوام کی نمائندگی کرنی ہے تو پہلے عوام کو گلی محلے میں نمائندگی دیں، جب تک گلی محلے والوں کی نمائندگی نہیں ہوگی تو وہاں کوئی فائربریگیڈ نہیں ہوگا، پھر وزارت دفاع کا فائر بریگیڈ آ کر آگ بجھائے گا۔ وزیر دفاع نے واضح کیا کہ 28ویں ترمیم میں لوکل گورنمنٹ کو بااختیار بنانے اور اس کے مؤثر نظام کے قیام کی تجویز دی گئی تھی، اور اس پر اتفاق رائے بھی موجود تھا، تاہم حکومت کو اس سے پیچھے ہٹنا پڑا۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubts Please let me know