ابراہیمی فیملی ہاؤس — متحدہ عرب امارات کا امن


 ابراہیمی فیملی ہاؤس — متحدہ عرب امارات کا امن، رواداری اور انسانیت کا پیغام

ابوظہبی کے ساحلی جزیرے سعدیات پر واقع ابراہیمی فیملی ہاؤس (Abrahamic Family House) دنیا کے لیے ایک ایسا روشن چراغ ہے جو امن، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کی علامت بن چکا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں اسلام، عیسائیت اور یہودیت کے عبادت خانے  ایک مسجد ایک چرچ اور ایک یہودی عبادت گاہ (سیناگوگ) ایک ہی احاطے میں موجود ہیں۔

یہ عظیم منصوبہ مارچ 2023 میں عوام کے لیے کھولا گیا، مگر اس کی بنیاد 2019 میں اس وقت رکھی گئی جب پوپ فرانسس (Pope Francis) نے ابوظہبی کا تاریخی دورہ کیا اور شیخ احمد الطیب (Grand Imam of Al-Azhar) کے ساتھ "Document on Human Fraternity" پر دستخط کیے — جو انسانیت، محبت اور باہمی احترام کا عالمی منشور بن گی

🌙 اسلام کا روشن چہرہ  امن و محبت کا پیغام

ابراہیمی فیملی ہاؤس میں موجود مسجد، جس کا نام امام الطیب مسجد رکھا گیا ہے، اسلام کے اُس روشن تصور کو پیش کرتی ہے جو امن، برداشت اور بھائی چارے پر مبنی ہے۔

یہ مسجد نہ صرف عبادت کی جگہ ہے بلکہ ایک علامت ہے کہ اسلام دوسروں کے ساتھ امن کے ساتھ رہنے کی دعوت دیتا ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے:

> "لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ"

(تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین) – سورۃ الکافرون (109:6)

یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اسلام دوسروں کے عقائد کا احترام سکھاتا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے اسی قرآنی پیغام کو عملی شکل دی ہے — یہ دکھاتے ہوئے کہ ایک مسلم ملک بھی تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے دروازے کھول سکتا ہے، بغیر اپنی اسلامی شناخت کھوئے

✝️ عیسائیت کے لیے محبت اور احترام

ابراہیمی فیملی ہاؤس میں موجود چرچ کا نام سینٹ فرانسس آف اسیسی چرچ رکھا گیا ہے۔

یہ چرچ روشنی اور سکون کی علامت ہے، جو عیسائیوں کے لیے نہ صرف عبادت کا مقام ہے بلکہ اُن کے لیے محبت اور احترام کا ایک پیغام بھی ہے۔

یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امارات میں رہنے والے عیسائی اپنی عبادت پوری آزادی سے ادا کر سکتے ہیں، اور اسلام ان کے ساتھ رواداری او

ر بھائی چارے کا رویہ رکھتا ہے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کیا ایرانین کمیونٹی یو اے ای کے ویزا منسوخ ہو رہے ہیں؟ حقیقت کیا ہے؟

پاکستان بھر میں مہنگائی کی نئی لہر اور حکومتی اقدامات: کیا عوام کو ریلیف ملے گا؟

سوڈانی اخوان المسلمون پر پابندی: دہشت گردی کے خلاف جنگ یا سیاسی فیصلہ؟