دبئی: ایمریٹس ایئرلائن کے 40 سال مکمل
دبئی: ایمریٹس ایئرلائن کے 40 سال مکمل — پہلا تاریخی پرواز اڑانے والے پاکستانی پائلٹ کی کہانی
دبئی — اس ہفتے ایمریٹس ایئرلائن نے اپنی شاندار چالیسویں سالگرہ منائی، جس نے ایک چھوٹے سے دو جہازوں کے فلیٹ سے سفر شروع کر کے آج دنیا کی سب سے معروف ایئرلائنز میں شمار ہونے تک کا حیرت انگیز سفر طے کیا ہے۔ اس موقع پر ایک بار پھر روشنی ڈالی جا رہی ہے اُس شخص پر جس نے ایمریٹس کی پہلی تاریخی پرواز اڑائی — کپتان فضلِ غنی، ایک پاکستانی پائلٹ جن کی پیشہ ورانہ مہارت اور پرسکون قیادت نے ہوابازی کی تاریخ رقم کی۔
25 اکتوبر 1985 کو، کپتان فضلِ غنی، جو اس وقت پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA) میں سینئر پائلٹ تھے، نے ایمریٹس فلائٹ EK600 کو کمانڈ کیا۔ یہ پرواز دبئی سے کراچی کے لیے تھی، جو ایمریٹس ایئرلائن کی پہلی پرواز قرار پائی۔ عرب سمندر کے پار یہ مختصر سفر دراصل ایک عالمی سفر کی شروعات تھا — ایک ایسا سفر جو آج چھ براعظموں تک پھیل چکا ہے اور 140 سے زائد شہروں کو آپس میں جوڑتا ہے۔
ایمریٹس ایئرلائن کی بنیاد 1985 میں رکھی گئی تھی، جب دبئی حکومت نے ایک جدید، معیاری اور بین الاقوامی سطح کی فضائی کمپنی قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ صرف دو طیاروں — ایک بوئنگ 737 اور ایک ایئربس 300 B4 — سے شروع ہونے والی یہ ایئرلائن آج دنیا کے سب سے بڑے اور کامیاب فضائی بیڑوں میں شمار ہوتی ہے۔
کپتان فضلِ غنی کا کردار اس تاریخی آغاز میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی قیادت میں اڑنے والی پہلی پرواز نہ صرف ایمریٹس کے سفر کا آغاز تھی بلکہ پاکستان اور دبئی کے درمیان فضائی تعلقات کی ایک مضبوط بنیاد بھی بن گئی۔
آج جب ایمریٹس ایئرلائن اپنے 40 سال مکمل ہونے پر فخر محسوس کر رہی ہے، دنیا بھر میں اس کی کامیابیوں کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس کامیابی کی پہلی اڑان ایک پاکستانی کے ہاتھوں سے شروع ہوئی تھی — ایک ایسا لمحہ جو نہ صرف ایمریٹس بلکہ پاکستان کی ہوابازی کی تاریخ میں بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ✈️
🇵🇰🇦🇪

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubts Please let me know