آئی ایم ایف کی رپورٹ: متحدہ عرب امارات کی معیشت 2025


 آئی ایم ایف کی رپورٹ: متحدہ عرب امارات کی معیشت 2025 میں 4.8 فیصد بڑھے گی


بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پیش گوئی کی ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی معیشت 2025 میں 4.8 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی، جو کہ گزشتہ سال کے 4 فیصد کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ 2026 میں یہ ترقی مزید بڑھ کر 5 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔


غیر تیل کی معیشت اور اوپیک پیداوار اہم عوامل


رپورٹ کے مطابق، اس معاشی نمو کی سب سے بڑی وجہ غیر ہائیڈروکاربن سیکٹرز (non-hydrocarbon sectors) کی مضبوط کارکردگی اور اوپیک (OPEC) کی جانب سے پیداوار میں اضافہ ہے۔ یہ رجحان متحدہ عرب امارات کو دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش اور محفوظ سرمایہ کاری مرکز بناتا ہے۔


نیشنل پالیسی برائے اکنامک کلسٹرز


گزشتہ ماہ یو اے ای حکومت نے اپنی معیشت کو مزید فروغ دینے کے لیے "نیشنل پالیسی برائے اکنامک کلسٹرز" کے آغاز کا اعلان کیا۔ اس پالیسی کے تحت معیشت میں ہر سال تقریباً 30 ارب درہم (8.16 ارب ڈالر) کا اضافہ متوقع ہے۔

اس حکمتِ عملی کا مقصد اگلے سات سالوں میں 15 ارب درہم تک غیر ملکی تجارت میں اضافہ کرنا ہے۔


تجارتی معاہدے (Cepas)


یو اے ای نے اپنی معیشت کو وسعت دینے کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (Cepas) کیے ہیں۔ حالیہ عرصے میں آسٹریلیا اور ملائیشیا کے ساتھ کیے گئے معاہدے بھی نافذ ہو گئے ہیں، جبکہ اس سے قبل اردن، نیوزی لینڈ اور انگولا کے ساتھ بھی شراکت داری قائم کی گئی تھی۔


سرمایہ کاروں کا اعتماد اور مالیاتی استحکام


آئی ایم ایف مشن چیف برائے یو اے ای، سعید بخاشے کے مطابق:


> "جامع اقتصادی شراکت داری معاہدوں کے پھیلاؤ سے معیشت میں مزید تنوع آئے گا اور استحکام بڑھے گا، جبکہ مالیاتی منڈیاں اور سرمایہ کے بہاؤ عالمی جھٹکوں کے باوجود اپنی مضبوطی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔"




مہنگائی اور رہائشی اخراجات


آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یو اے ای میں اس سال مہنگائی کی شرح 1.6 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ درمیانی مدت میں یہ تقریباً 2 فیصد تک جا سکتی ہے۔ تاہم، رہائشی لاگت (housing costs) کو مہنگائی کا سب سے بڑا سبب قرار دیا گیا ہے، جس سے رہائش کی دستیابی اور افورڈیبلٹی کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔


مضبوط بینکاری شعبہ


رپورٹ کے مطابق، یو اے ای کا بینکاری شعبہ مستحکم اور منافع بخش ہے۔ یو اے ای کے مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 کی دوسری سہ ماہی میں بینک ڈپازٹس میں سالانہ بنیاد پر 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ قرضوں کی شرح میں بھی 11 فیصد اضافہ ہوا۔


مستقبل کی سمت


آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ یو اے ای کی جانب سے اپنے درہم مانیٹری فریم ورک میں کی جانے والی اصلاحات مثبت ہیں، جو لیکویڈیٹی مینجمنٹ کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔

مجموعی طور پر، یہ تمام اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ متحدہ عرب امارات اپنی معیشت کو تیل پر انحصار سے ہٹاکر متنوع اور پائیدار راستے پر ڈالنے کے لیے پرعزم ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کیا ایرانین کمیونٹی یو اے ای کے ویزا منسوخ ہو رہے ہیں؟ حقیقت کیا ہے؟

پاکستان بھر میں مہنگائی کی نئی لہر اور حکومتی اقدامات: کیا عوام کو ریلیف ملے گا؟

سوڈانی اخوان المسلمون پر پابندی: دہشت گردی کے خلاف جنگ یا سیاسی فیصلہ؟