ہالینڈ کی سفیر ہینی ڈی فریز کی پاکستان میں سفارتی مدت کا اختتام
ہالینڈ کی سفیر ہینی ڈی فریز کی پاکستان میں سفارتی مدت کا اختتام — تعاون، ثقافت، اور امید سے بھرپور ایک یادگار سفر
ہالینڈ کی سفیر برائے پاکستان، محترمہ ہینی ڈی فریز نے پاکستان میں اپنی سفارتی مدت مکمل کر لی ہے۔ اپنے الوداعی پیغام میں انہوں نے پاکستان کی ثقافتی تنوع، عوام کی محنت، اور اس ملک کی بے پناہ صلاحیت کو سراہا اور کہا کہ پاکستان میں ان کا وقت "تعاون، باہمی احترام اور امید سے بھرپور ایک ناقابلِ فراموش سفر" تھا۔
COVID-19 کے چیلنجز میں آغاز، ترقی کی راہیں ہموار
محترمہ ہینی ڈی فریز نے اگست 2020 میں ایسے وقت میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں جب دنیا عالمی وبا COVID-19 کے بحران سے دوچار تھی۔ ان مشکل حالات کے باوجود انہوں نے پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان تعلقات کو فروغ دیا، خاص طور پر ماحولیاتی تبدیلی، خواتین کے حقوق، تجارت، تعلیم، پانی کے انتظام، اور ثقافتی سفارت کاری کے شعبوں میں۔
ماحولیاتی تبدیلی اور پانی کے شعبے میں تعاون
نیدرلینڈز عالمی سطح پر پانی کے مؤثر انتظام میں اپنی مہارت کے لیے جانا جاتا ہے۔ سفیر ہینی ڈی فریز نے پاکستان کے ساتھ مشترکہ چیلنجز جیسے کہ سیلاب، پانی کی کمی، اور ماحولیاتی تباہی سے نمٹنے کے لیے معلومات اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کو فروغ دیا۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد انہوں نے سندھ اور بلوچستان کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
تجارتی اور زرعی تعلقات میں بہتری
ان کے دور میں ہالینڈ اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات میں نمایاں بہتری آئی۔ ہالینڈ کی کمپنیوں نے پاکستان میں زراعت، ڈیری، لاجسٹکس، اور قابلِ تجدید توانائی جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھائی۔ 2022 میں انہوں نے "ڈچ-پاک ایگری نیٹ ورک" کا آغاز کیا تاکہ زرعی ماہرین اور کاروباری افراد کے درمیان روابط کو فروغ دیا جا سکے۔
خواتین کے حقوق اور برابری کے لیے کوششیں
سفیر ہینی ڈی فریز نے خواتین کے حقوق، تعلیم، اور معاشی خودمختاری کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے۔ انہوں نے سول سوسائٹی، خواتین کاروباری شخصیات اور نوجوانوں کے ساتھ مل کر مختلف تقریبات، تربیتی سیشنز اور آگاہی مہمات میں حصہ لیا۔ ان کا کہنا تھا: "پاکستانی خواتین نہایت باصلاحیت اور مضبوط ہیں، ان میں سرمایہ کاری دراصل قوم کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔"
ثقافتی سفارت کاری اور عوامی روابط
سفیر ہینی ڈی فریز نے پاکستان کی ثقافت کو قریب سے جاننے اور دنیا کو اس سے روشناس کرانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے لاہور کی گلیوں، ملتان کے مزارات، ہنزہ کی پہاڑیوں اور کراچی کے فنونِ لطیفہ کے مراکز کا دورہ کیا۔ ان کی قیادت میں ڈچ سفارتخانے نے ثقافتی نمائشیں، فلمی تقریبات اور ڈچ زبان کی کلاسز منعقد کیں۔
یادگار لمحات اور جذباتی الوداع
اپنے الوداعی پیغام میں انہوں نے پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہاں کے لوگ "مہمان نواز، پر امید، اور ہنر مند" ہیں۔ انہوں نے پاکستانی کھانوں جیسے بریانی اور چپلی کباب کا ذکر کیا، رکشے کی سواری کو یاد کیا، اور چند اردو جملے بھی سیکھے۔ ان کا کہنا تھا:
"مجھے ہر جگہ ’خوش آمدید‘ سننے کو ملا، اور پاکستان ہمیشہ میرے دل کے قریب رہے گا۔"
سفارتی باب کا اختتام، ایک نئی شروعات کی امید
سفیر ہینی ڈی فریز کی روانگی پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان ایک مضبوط سفارتی باب کا اختتام ہے، لیکن ان کی خدمات دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں مزید مضبوط تعلقات کے لیے ایک بنیاد مہیا کریں گی۔ ان کے بعد آنے والے سفیر سے امید ہے کہ وہ اس مضبوط بنیاد پر مزید ترقی کریں گے۔
اختتامی پیغام
انہوں نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا:
"خدا حافظ پاکستان — ہمیشہ کے لیے نہیں، بلکہ دوبارہ ملنے تک۔ شکریہ ہر چیز کے لیے!"

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubts Please let me know