پاکستان کی ہاکی ٹیم ایف آئی ایچ پرو لیگ میں واپسی پر
پاکستان کی ہاکی ٹیم ایف آئی ایچ پرو لیگ میں واپسی پر خوش آمدید
انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن (FIH) کے صدر طیب اکرام نے پاکستان کی ایف آئی ایچ ہاکی پرو لیگ میں واپسی کو ایک تاریخی لمحہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا:
"پاکستان کو دوبارہ ایلیٹ مقابلوں میں دیکھ کر خوشی ہوئی۔ یہ عالمی ہاکی کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔ ان کی واپسی نہ صرف ایک شاندار تاریخ رکھنے والی ٹیم کا کم بیک ہے بلکہ ایف آئی ایچ ہاکی پرو لیگ کی مقبولیت اور رسائی کے لیے بھی ایک بڑا اضافہ ہے۔"
ایف آئی ایچ ہاکی پرو لیگ 2019 میں شروع ہوئی تھی جس میں دنیا کی نو بہترین مرد اور خواتین ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔ ہر ٹیم 16 میچ کھیلتی ہے اور زیادہ پوائنٹس حاصل کرنے والی ٹیم چیمپئن بنتی ہے، جبکہ آخری نمبر پر آنے والی ٹیم کو نیشنز کپ میں بھیج دیا جاتا ہے۔ نیشنز کپ کی فاتح ٹیم کو اگلے سیزن کی پرو لیگ میں پروموشن ملتا ہے۔
آنے والا سیزن لاس اینجلس 2028 اولمپکس کے لیے کوالیفائنگ ایونٹ بھی ہوگا۔
پاکستان آئندہ مردوں کے سیزن میں ارجنٹینا، آسٹریلیا، بیلجیئم، انگلینڈ، جرمنی، بھارت، نیدرلینڈز اور اسپین کے ساتھ حصہ لے گا۔
اب تک کے چھ ایڈیشنز میں نیدرلینڈز نے غلبہ قائم رکھا ہے۔ ڈچ خواتین کی ٹیم نے پانچ مرتبہ ٹائٹل جیتا جبکہ مردوں نے تین بار چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ دونوں ہی اپنی اپنی کیٹیگری کے موجودہ چیمپئن ہیں۔
بھارت کی مردوں کی ٹیم نے 2020-21 میں پرو لیگ میں شمولیت اختیار کی اور 2024-25 میں آٹھویں نمبر پر رہی، یوں بال بال بچتے ہوئے نیشنز کپ میں جانے سے بچ گئی۔ دوسری جانب بھارت کی خواتین ٹیم نے 2021-22 میں ڈیبیو کیا اور پہلی ہی بار میں تیسری پوزیشن حاصل کی، تاہم 2024-25 میں آخری نمبر پر آنے کے باعث انہیں ریلیگیٹ ہونا پڑا۔
پاکستان کی اس واپسی کو ہاکی ماہرین عالمی کھیل میں ایک نئی جان ڈالنے والا لمحہ قرار دے رہے ہیں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubts Please let me know