کرغزستانی کوہ پیما ایڈورڈ کوباتوف نے کے ٹو بغیر آکسیجن


 

کرغزستانی کوہ پیما ایڈورڈ کوباتوف نے کے ٹو بغیر آکسیجن کے سر کر لیا – ایک تاریخی کارنامہ

اسکردو / کرغزستان – دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو (K2) کو بغیر آکسیجن سلنڈر کے سر کرنا کسی بھی کوہ پیما کے لیے ایک غیر معمولی کامیابی ہے، اور کرغزستان سے تعلق رکھنے والے بہادر کوہ پیما ایڈورڈ کوباتوف (Eduard Kubatov) نے یہ کارنامہ انجام دے کر تاریخ رقم کر دی ہے۔

کے ٹو – دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی

کے ٹو، جسے چوگوری (Chogori) یا قوگیر (Qogir) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 8,611 میٹر (28,251 فٹ) بلند ہے اور پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع قراقرم پہاڑی سلسلے (Karakoram Range) کا حصہ ہے۔ یہ چوٹی اپنی خطرناک چڑھائی اور شدید موسمی حالات کی وجہ سے "قاتل پہاڑ" کے نام سے بھی مشہور ہے۔

بغیر آکسیجن کے چوٹی تک رسائی

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایڈورڈ کوباتوف نے 11 اگست کو ایک بین الاقوامی مہم (International Expedition) کے حصے کے طور پر کے ٹو سر کیا۔ سب سے قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ کارنامہ آکسیجن سلنڈر کے بغیر اور انتہائی سخت موسمی حالات میں انجام دیا، جو ان کی فنی مہارت، قوتِ ارادی اور جسمانی طاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

کرغزستان کے لیے فخر کا لمحہ

یہ کارنامہ کرغزستان کے لیے نہایت فخر کی بات ہے۔ حال ہی میں ایک اور کرغزستانی کوہ پیما، آسیل بائیباغیشیوا (Asel Baibagysheva) نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ (Mount Everest) کو سر کر کے کرغزستان کی پہلی خاتون کوہ پیما بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ دونوں کامیابیاں وسطی ایشیا میں کوہ پیمائی کے بڑھتے ہوئے شوق اور صلاحیتوں کا مظہر ہیں۔

نتیجہ

ایڈورڈ کوباتوف کی کامیابی نہ صرف کوہ پیمائی کی دنیا کے لیے ایک متاثر کن لمحہ ہے بلکہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان دوستی اور عالمی کوہ پیما برادری کے تعلقات کو مزید مضبوط بناتی ہے۔
ان کی یہ مہم آئندہ آنے والے نوجوان کوہ پیماؤں کے لیے مشعلِ راہ ہے جو خواب دیکھنے اور انہیں حقیقت میں بدلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کیا ایرانین کمیونٹی یو اے ای کے ویزا منسوخ ہو رہے ہیں؟ حقیقت کیا ہے؟

پاکستان بھر میں مہنگائی کی نئی لہر اور حکومتی اقدامات: کیا عوام کو ریلیف ملے گا؟

سوڈانی اخوان المسلمون پر پابندی: دہشت گردی کے خلاف جنگ یا سیاسی فیصلہ؟