پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے بانی چیئرمین سے جیل میں ملاقات

 

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے بانی چیئرمین سے جیل میں ملاقات نہ ہونے پر قومی اسمبلی میں احتجاج اور کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔

 

پی ٹی آئی ایم این اے عامر ڈوگر نے ایوان کی کمیٹی بناکر سپرنٹنڈنٹ جیل کو طلب کرکے وضاحب مانگنے کا مطالبہ کیا، اسد قیصر نے ایوان میں اور پارلیمان کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جیل مینوئل کے تحت ملاقات ہمارا استحقاق ہے، پارلیمنٹ کے استحقاق کو مضبوط کیا جائے۔

 

اُن کا کہنا تھا کہ آج بانی کی بہنوں اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقات نہ ہوئی تو کل پھر بائیکاٹ ہوگا، کل اسمبلی اجلاس اسمبلی سے باہر ہوگا، وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کی پی ٹی آئی ارکان کو بیٹھ کر بات کرنے کی پیشکش کی جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی کی بھی حکومت کے ساتھ مذاکرات کی دعوت اور اپنے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، وفاقی وزیر اور اسپیکر ایاز صادق اس دوران پی ٹی آئی ارکان کو روکتے رہ گئے لیکن وہ واک آؤٹ کرگئے۔

 

ایم این اے فتح اللہ نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں موجود کوئی بھی حکومتی وزیر ہمیں مطمئن نہیں کر سکا، ڈی آئی خان میں 83 فیصد زرعی اراضی تباہ ہوگئی ہے، حکومت کی جانب سے ہمارے لیے 10 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کرنا ہمارے منہ پر طمانچہ ہے، وزیراعظم سیلاب متاثرین کو اعلان کردہ امدادی رقوم دینے میں ناکام رہے ہیں۔لوگوں نے بینک اکاونٹ کھلوا لیے لیکن کوئی رقم منتقل نہیں ہوئی۔

 

جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد میں مساجد کو مسمار کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی، اور کہا کہ ہم بھارت میں ایسے اقدامات پر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں لیکن اب ہماری اپنی اسلامی ریاست میں ایسا گھنائونا اقدام افسوسناک ہے، اگر حکمرانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو لال مسجد جیسا واقعہ پیش آ سکا ہے۔

 

ایم این اے سید رضا گیلانی نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے وزرا نے سٹینڈنگ کمیٹی میں یوٹیلٹی سٹورز کو غیر متنازعہ معاملہ قرار دیتے ہوئے ان کو کھلے رکھنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بعد میں یوٹیلٹی سٹورز کو بند کر دیا گیا، ملازمین کو بے روزگار کر دیا گیا آج اس معاملے پر کوئی بریف کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

 

ایم این اے حمید حسین نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب سے پیدل سفر کرنے والے زائرین کو درپیش مسائل پر توجہ مبذول کرائی اور ایوان میں بتایا کہ پنجاب میں سبیلیں لگانے والوں کے خلاف بھی مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔

 

ایم این اے امجد علی خان نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ آج اس لیے درپیش ہے کہ ہم اس مسئلے کو درست طریقے سے حل نہیں کر سکے، اور اس مسئلے کا حل  ہمیشہ طاقت سے تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو کسی بھی صورت اس کا حل نہیں ہو سکتا ہے۔

 

ایم این اے سردار نبیل گبول نے کراچی میں 18 گھنٹے سے زائد بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکمران لوڈ شیڈنگ 11 گھنٹے بتاتے ہیں لیکن میں چیلنج کرتا ہوں کہ اگر لوڈ شیڈنگ 11 گھنٹے سے کم ہوئی تو میں کوئی بھی سزا لینے کے لیے تیار ہوں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کیا ایرانین کمیونٹی یو اے ای کے ویزا منسوخ ہو رہے ہیں؟ حقیقت کیا ہے؟

پاکستان بھر میں مہنگائی کی نئی لہر اور حکومتی اقدامات: کیا عوام کو ریلیف ملے گا؟

سوڈانی اخوان المسلمون پر پابندی: دہشت گردی کے خلاف جنگ یا سیاسی فیصلہ؟