ویرات کوہلی کا ومبلڈن اور پاک بھارت میچز کا موازنہ:
ویرات کوہلی کا ومبلڈن اور پاک بھارت میچز کا موازنہ: دباؤ کس میں زیادہ؟
سابق بھارتی کپتان کا ومبلڈن ٹینس کے دباؤ پر دلچسپ ردعمل
نئی دہلی (اسپورٹس ڈیسک) – بھارتی کرکٹ کے لیجنڈ اور حال ہی میں T20 کرکٹ سے ریٹائر ہونے والے ویرات کوہلی نے ومبلڈن ٹینس اور پاک بھارت کرکٹ میچ کے دباؤ کا دلچسپ موازنہ کیا ہے۔ ویرات کوہلی نے ومبلڈن میں ہونے والے مینز راؤنڈ آف 16 میچ کے دوران نوواک جوکووچ اور ایلکس ڈی مینور کے درمیان سخت مقابلے کو براہ راست دیکھا اور اس موقع پر ٹینس کی شدت کو کرکٹ کے بڑے مقابلوں کے برابر بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ قرار دیا۔
ومبلڈن کا سینٹر کورٹ کرکٹ میچز سے زیادہ اعصاب شکن؟
ویرات کوہلی کا کہنا تھا کہ ومبلڈن کا سینٹر کورٹ اور ہر پوائنٹ پر پڑنے والا دباؤ بعض اوقات اتنا شدید ہوتا ہے کہ وہ بڑے کرکٹ میچز جیسے کہ پاکستان بھارت کے درمیان ورلڈ کپ مقابلوں سے بھی بڑھ کر محسوس ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا:
"کرکٹ میں دباؤ ضرور ہوتا ہے، لیکن بیٹنگ کے دوران آپ تماشائیوں کے شور، تنقید یا نعروں کو براہ راست محسوس نہیں کرتے۔ فیلڈنگ کے دوران، خاص طور پر باؤنڈری پر، اصل دباؤ آتا ہے۔"
ٹینس کھلاڑیوں کی ذہنی اور جسمانی فٹنس کو خراج تحسین
ویرات کوہلی نے مزید کہا کہ ٹینس کھلاڑیوں کی جسمانی فٹنس اور ذہنی طاقت قابل تعریف ہے۔ ہر پوائنٹ پر فیصلہ کن دباؤ ہوتا ہے اور ایک لمحے کی غلطی پورا میچ بدل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا:
"ٹینس میں کھلاڑی کو ہر پوائنٹ پر مکمل فوکس اور توانائی درکار ہوتی ہے۔ یہ کھیل نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی طور پر بھی بہت سخت ہوتا ہے۔"
پاک بھارت میچز: دباؤ کی بلند ترین سطح
ویرات کوہلی نے خاص طور پر پاک بھارت کرکٹ میچز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ:
"ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف میچ وہ چند لمحات ہوتے ہیں جب کرکٹ میں بھی ٹینس جیسا شدید دباؤ محسوس ہوتا ہے۔ اس وقت واقعی آپ کے پاؤں کانپتے ہیں۔"
ویرات کوہلی کی ریٹائرمنٹ اپڈیٹس
یاد رہے کہ ویرات کوہلی نے حال ہی میں ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہے۔ 2024 کے ٹی20 ورلڈ کپ کے فائنل میں وہ پلیئر آف دی میچ بھی رہے۔ اس سے پہلے مئی 2024 میں وہ ٹیسٹ کرکٹ سے بھی ریٹائر ہو چکے ہیں۔ تاہم، وہ اب بھی ون ڈے فارمیٹ میں ٹیم کے لیے دستیاب ہیں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubts Please let me know