پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں نئی جہتیں:


 

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں نئی جہتیں: ابوظہبی میں پاکستانی سفیر کا خطاب


پاکستان کے متحدہ عرب امارات میں سفیر، فیصل نیاز ترمذی نے ابوظہبی میں "امارات سینٹر فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز اینڈ ریسرچ" (ECSSR) کے زیراہتمام ایک مکالماتی اجلاس میں شرکت کی، جس کا موضوع تھا: "پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دوطرفہ تعلقات"۔

برادرانہ تعلقات اور مشترکہ اقدار

سفیر فیصل ترمذی نے اس موقع پر پاکستان اور یو اے ای کے درمیان گہرے اور کثیرالجہتی تعلقات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مشترکہ اسلامی اقدار، ثقافتی ہم آہنگی، اور مضبوط عوامی روابط پر مبنی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 1.7 ملین پاکستانی شہریوں کی متحدہ عرب امارات میں موجودگی دونوں ملکوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔

اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور اسٹریٹیجک تعاون

سفیر نے حالیہ اعلیٰ سطحی روابط کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ابوظہبی کے ولی عہد، شیخ خالد بن محمد النہیان اور وزیر خارجہ، شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کے حالیہ دورہ پاکستان سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں مزید مضبوطی آئی ہے۔ پاکستان-یو اے ای جوائنٹ منسٹریل کمیشن کے 12ویں اجلاس کی کامیاب تکمیل اس بات کی غمازی ہے کہ باہمی تعاون بڑھتا جا رہا ہے۔

علاقائی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف اشتراک

سفیر ترمذی نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان اور یو اے ای کے مشترکہ عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیاں اور تجربہ ایک قیمتی اثاثہ ہے، جسے دونوں ممالک کے مفاد میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

مسئلہ فلسطین اور انسانی ہمدردی

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے، پاکستانی سفیر نے غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور یو اے ای کی سفارتی و انسانی امداد کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تنازعات کا حل صرف مکالمے اور شمولیتی سفارت کاری سے ممکن ہے۔

سندھ طاس معاہدہ اور بھارت کا دعویٰ

ایک سوال کے جواب میں، سفیر ترمذی نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ، جو 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پایا تھا، بھارت یکطرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ طور پر مستقل عدالت انصاف نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔

اقتصادی مواقع اور سرمایہ کاری کی نئی راہیں

اقتصادی شعبے پر بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر لاجسٹکس، بندرگاہوں، قابلِ تجدید توانائی، اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں۔ کراچی پورٹ اور پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو اس تعاون کے لیے کلیدی عوامل قرار دیا گیا۔

علمی اداروں کے درمیان تعاون کی ضرورت

سفیر نے دونوں ممالک کے تھنک ٹینکس، جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان اشتراک کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ تحقیق اور علم کا تبادلہ باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔

اجلاس کا اختتام

یہ مکالماتی اجلاس سوال و جواب کی ایک متحرک نشست کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جس میں اماراتی پالیسی سازوں، محققین اور تجزیہ کاروں نے بھرپور شرکت کی۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کیا ایرانین کمیونٹی یو اے ای کے ویزا منسوخ ہو رہے ہیں؟ حقیقت کیا ہے؟

پاکستان بھر میں مہنگائی کی نئی لہر اور حکومتی اقدامات: کیا عوام کو ریلیف ملے گا؟

سوڈانی اخوان المسلمون پر پابندی: دہشت گردی کے خلاف جنگ یا سیاسی فیصلہ؟