پاکستانی وفد کا سرکاری دورہ متحدہ عرب امارات:
پاکستانی وفد کا سرکاری دورہ متحدہ عرب امارات: ڈیجیٹل گورننس اور عوامی خدمات کی بہتری کے لیے اہم اقدامات
پاکستانی حکومت کا ایک اعلیٰ سطحی وفد متحدہ عرب امارات کے سرکاری دورے سے واپس آ گیا ہے، جہاں انہوں نے عوامی شعبے میں جدیدیت، ڈیجیٹل گورننس، اور ٹیکس نظام کی بہتری جیسے اہم موضوعات پر سیکھنے کے مواقع حاصل کیے۔
یہ وفد پاکستان کے وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے اور وزیر اعظم کے ڈلیوری یونٹ کے سربراہ بلال اظہر کیانی کی قیادت میں یو اے ای حکومت کے "ایکسپیرینس ایکسچینج پروگرام" (EEP) میں شرکت کے لیے گیا تھا۔ یہ پروگرام وزیر اعظم شہباز شریف کی ادارہ جاتی اصلاحات اور سرکاری خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کی مہم کا حصہ ہے۔
وفد نے کن امور پر سیکھا؟
دورے کے دوران پاکستانی وفد نے یو اے ای کے اعلیٰ حکام سے تفصیلی نشستیں کیں جن میں درج ذیل شعبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا:
-
ڈیجیٹل گورننس
-
ٹیکس نظام میں جدت
-
لیڈرشپ ڈیولپمنٹ
-
سرکاری خدمات میں اختراع
-
میڈیا کمیونیکیشن
-
فیوچر فoresight (مستقبل کی پیش بینی)
-
پرفارمنس مینجمنٹ
پاکستانی سفارت خانے کے مطابق، بلال اظہر کیانی نے یو اے ای حکومت کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کی جانب سے عوامی خدمات میں بہتری اور عالمی معیار کی پالیسیوں کو اپنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اہم ملاقاتیں
اختتامی دن پاکستانی وفد نے ان اہم یو اے ای عہدیداروں سے ملاقات کی:
-
محمد الشارحن (منیجنگ ڈائریکٹر، ورلڈ گورنمنٹس سمٹ)
-
خالد علی البستانی (ڈائریکٹر جنرل، یو اے ای فیڈرل ٹیکس اتھارٹی)
-
سعید ال ایتر (چیئر، یو اے ای گورنمنٹ میڈیا آفس)
-
ڈاکٹر ولید العلی (سیکرٹری جنرل، دی ڈیجیٹل اسکول)
-
خلفان بلحول (سی ای او، دبئی فیوچر فاؤنڈیشن)
پاکستان-یو اے ای تعلقات
یہ دورہ 16 جون 2025 کو دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے یادداشت کے معاہدے (MoU) کی بنیاد پر ہوا، جو یو اے ای وزارت کابینہ امور اور پاکستان کی وزارت منصوبہ بندی کے درمیان ہوا تھا۔ اس معاہدے کا مقصد گورننس کے شعبے میں تعاون اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے۔
یو اے ای پاکستان کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار اور ترسیلات زر کا اہم ذریعہ ہے، جہاں 1.7 ملین سے زائد پاکستانی مقیم ہیں۔ صرف گزشتہ مالی سال میں پاکستانیوں نے یو اے ای سے 5 ارب ڈالر سے زائد ترسیلات وطن بھیجیں۔
تجارتی و دفاعی روابط
2024 میں پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دو طرفہ تجارت 10 ارب ڈالر کے قریب پہنچ گئی، جو کہ توانائی، ٹیکسٹائل اور دیگر مصنوعات پر مشتمل ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری، دفاع، اور عوامی سطح پر روابط میں بھی مضبوط تعاون موجود ہے۔
نتیجہ
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اس طرح کے تجرباتی اور سیکھنے پر مبنی پروگرام دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہیں۔ پاکستان کی جانب سے ڈیجیٹل گورننس اور عوامی خدمات میں بہتری کے لیے یو اے ای کے ماڈلز سے سیکھنا ایک مثبت قدم ہے، جو مستقبل میں مؤثر سروس ڈیلیوری اور ادارہ جاتی بہتری کی راہ ہموار کرے گا۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubts Please let me know