سپریم کورٹ کا فیصلہ:
سپریم کورٹ کا فیصلہ: پی ٹی آئی کی مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں میں تقسیم، نظر ثانی درخواستیں منظور
سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مخصوص نشستیں دینے کے خلاف نظر ثانی کی درخواستوں پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا ہے۔ اس اہم آئینی فیصلے کے مطابق، پی ٹی آئی کی مخصوص نشستیں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جائیں گی۔
فیصلے کی تفصیلات: نظر ثانی درخواستیں منظور
جسٹس امین الدین خان نے سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کی جانب سے مختصر فیصلہ پڑھ کر سنایا، جس میں اکثریتی سات ججز نے نظر ثانی درخواستوں کو منظور کیا، جب کہ پانچ ججز نے اختلافی نوٹ لکھا۔ اس فیصلے کے بعد، پشاور ہائی کورٹ کا پرانا فیصلہ بحال کر دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں کی تقسیم کا پس منظر
الیکشن کمیشن کی جانب سے قبل ازیں پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاہم یہ فیصلہ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے چیلنج کیا گیا تھا۔ نظر ثانی درخواستوں کے بعد، سپریم کورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ مخصوص نشستیں خالی ہونے کی صورت میں ان کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا اور ان کا مناسب طور پر نئی جماعتوں میں تناسب کے تحت تقسیم کیا جائے گا۔
اختلافی نوٹس اور ججز کی رائے
جسٹس جمال مندوخیل نے اپنے فیصلے میں پی ٹی آئی کو 39 مخصوص نشستیں دینے کا فیصلہ برقرار رکھا۔ تاہم، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی نے اپنا سابقہ فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے جزوی نظر ثانی درخواستیں منظور کر لیں۔ انہوں نے جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ اپنایا، جس میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں سے متعلق ریکارڈ کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے۔
سیاسی و قانونی ماہرین کی رائے
اس فیصلے کو ملکی سیاست میں ایک بڑا موڑ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ مخصوص نشستوں کی تقسیم کا براہ راست اثر پارلیمانی طاقت کے توازن پر پڑے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مستقبل میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اختیارات اور پارلیمانی پارٹیوں کی حیثیت کے حوالے سے اہم نظیر بنے گا۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubts Please let me know