برطانوی کرائم ایجنسی نے شیخ حسینہ واجد کے قریبی ساتھی سیف الزمان کے


 

برطانوی کرائم ایجنسی نے شیخ حسینہ واجد کے قریبی ساتھی سیف الزمان کے اثاثے منجمد کر دیے

برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی (National Crime Agency UK) نے بنگلا دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے قریبی ساتھی اور سابق وزیر سیف الزمان چودھری کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 11 ملین پاؤنڈز مالیت کی جائیداد منجمد کر دی ہے۔ یہ پیش رفت ایک اہم بین الاقوامی کرپشن اسکینڈل کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جو عوامی لیگ کی اعلیٰ قیادت پر سوالیہ نشان بن کر سامنے آئی ہے۔

سیف الزمان کے خفیہ اثاثے بے نقاب

ذرائع کے مطابق، سیف الزمان چودھری کے دنیا بھر میں 350 سے زائد خفیہ غیر ملکی اثاثے سامنے آئے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ ان اثاثوں میں لندن، دبئی اور نیویارک میں واقع جائیدادیں شامل ہیں۔ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے سالانہ 12 ہزار ڈالر آمدنی ظاہر کرنے کے باوجود تقریباً 500 ملین ڈالرز خرچ کیے، جو بنگلا دیشی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

عوامی لوٹ مار اور کرپشن کا پردہ فاش

یہ کارروائی بنگلا دیشی عوام کی جانب سے دی گئی قانونی درخواستوں کے بعد ممکن ہوئی۔ الجزیرہ کی ایک دستاویزی فلم میں سیف الزمان کے پرتعیش طرزِ زندگی، مہنگے سوٹس اور جوتوں کے شوق کو بے نقاب کیا گیا، جس نے دنیا کو دکھایا کہ کس طرح شیخ حسینہ واجد کی حکومت میں کرپشن کو ریاستی سرپرستی حاصل تھی۔

شیخ حسینہ اور مودی سرکار کا گٹھ جوڑ؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کرپٹ وزرا کی سرپرستی کی۔ بنگلا دیشی عوام نے کرپشن، ظلم اور بھارتی مداخلت کے خلاف ایک مضبوط محاذ کھڑا کیا، جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔

بین الاقوامی سطح پر بدنامی کا باعث

برطانوی کرائم ایجنسی کی اس کارروائی نے نہ صرف بنگلا دیشی حکومت کی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ عالمی سطح پر شیخ حسینہ حکومت کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ واقعہ ایک واضح پیغام ہے کہ اب کرپشن چاہے کسی بھی سطح پر ہو، عالمی ادارے خاموش نہیں رہیں گے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کیا ایرانین کمیونٹی یو اے ای کے ویزا منسوخ ہو رہے ہیں؟ حقیقت کیا ہے؟

پاکستان بھر میں مہنگائی کی نئی لہر اور حکومتی اقدامات: کیا عوام کو ریلیف ملے گا؟

سوڈانی اخوان المسلمون پر پابندی: دہشت گردی کے خلاف جنگ یا سیاسی فیصلہ؟