فنانس بل 2025-26 میں 50 سے زائد نئے ٹیکس استثنیٰ،
فنانس بل 2025-26 میں 50 سے زائد نئے ٹیکس استثنیٰ، سابق صدر، ان کی بیوہ اور فلاحی ادارے مستفید
پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد فنانس بل 2025-26 کو صدرِ پاکستان آصف علی زرداری آج (پیر کو) دستخط کر کے باقاعدہ قانون کی شکل دیں گے۔ اس بل میں 50 سے زائد اداروں اور شخصیات کو ٹیکس استثنیٰ دیا گیا ہے، جس میں سابق صدرِ پاکستان اور ان کی بیوہ، کرنداز پاکستان، آرمی ویلفیئر ٹرسٹ، اور دیگر کئی فلاحی و سرکاری ادارے شامل ہیں۔
فلاحی اداروں کو بڑا ریلیف
اس سے قبل فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے چیریٹیبل آرگنائزیشنز اور نان پرافٹ آرگنائزیشنز (NPOs) کو ٹیکس کریڈٹس کی سہولت فراہم کی تھی، مگر اب فنانس بل 2025-26 میں ان اداروں کو مزید سہولت دیتے ہوئے مکمل ٹیکس استثنیٰ دیا گیا ہے۔ یہ اقدام فلاحی اور رفاہی کاموں کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا ہے۔
ٹیکس استثنیٰ حاصل کرنے والے اہم ادارے
نئے فنانس بل کے مطابق، جن اداروں اور شخصیات کو ٹیکس استثنیٰ حاصل ہوا ہے ان میں شامل ہیں:
-
سابق صدرِ پاکستان اور ان کی بیوہ کی پنشن پر ٹیکس سے استثنیٰ
-
اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور اسٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن
-
ایف بی آر فاؤنڈیشن
-
پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ
-
پاکستان واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا)
-
پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل
-
کارپورٹائزڈ واپڈا ادارے، جب تک ٹیرف نوٹیفائی نہ ہو
-
وزیراعظم کا خصوصی فنڈ برائے دہشت گردی متاثرین
-
وزیراعلیٰ (پنجاب) کا ریلیف فنڈ برائے آئی ڈی پیز (شمالی وزیرستان)
معاشی اصلاحات کی جانب ایک قدم
یہ ٹیکس استثنیٰ نہ صرف معاشی بہتری کی علامت ہے بلکہ حکومت کی فلاحی اداروں کی معاونت کی پالیسی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس اقدام سے رفاہی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور عطیات دینے والوں کو بھی اعتماد حاصل ہوگا کہ ان کا پیسہ باقاعدہ طور پر تسلیم شدہ اداروں کو جا رہا ہے۔
.jpeg)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubts Please let me know