قومی اقتصادی سروے 2024-25
قومی اقتصادی سروے 2024-25: پاکستان کی معیشت میں بہتری کی جانب پیش رفت
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اقتصادی سروے 2024-25 پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب استحکام اور بحالی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی سطح پر جی ڈی پی کا نمو 2.8 فیصد رہا جبکہ پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔
معیشت میں بہتری کے اشاریے
وزیر خزانہ نے کہا کہ دو سال قبل پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ منفی تھی اور مہنگائی کی شرح 29 فیصد سے زائد ہو چکی تھی۔ تاہم، حکومتی پالیسی اقدامات کے باعث افراط زر کم ہو کر 4.6 فیصد پر آ گئی ہے۔
پالیسی ریٹ اور مالی اصلاحات
انہوں نے بتایا کہ پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر آ چکا ہے۔ ٹیکس اصلاحات اور پنشن ریفارمز کے سلسلے میں اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ پنشن سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن ماڈل اپنایا جا رہا ہے۔
نجکاری اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات
وفاقی حکومت نے 24 سرکاری اداروں (SOEs) کو نجکاری کے لیے مختص کر دیا ہے جبکہ رائٹ سائزنگ کے ذریعے 43 وزارتوں اور 400 اٹیچ ڈپارٹمنٹس میں اصلاحات کی جا رہی ہیں۔
زر مبادلہ، ترسیلات زر اور برآمدات
رواں مالی سال ترسیلات زر 38 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ 1.9 ارب ڈالر سرپلس رہا۔ برآمدات میں 6.8 فیصد اضافہ ہوا ہے اور وہ 27.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
زرعی اور صنعتی شعبہ
وزیر خزانہ کے مطابق زرعی شعبے میں ترقی کی شرح 0.6 فیصد رہی جبکہ صنعتی شعبے میں 6 فیصد اور خدمات کے شعبے میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ البتہ اہم فصلوں کی پیداوار میں 13.49 فیصد کمی ہوئی ہے۔ گندم، چاول، کپاس اور گنے کی پیداوار میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جب کہ آلو، پیاز اور مکئی کی پیداوار میں اضافہ دیکھا گیا۔
ڈیجیٹل اصلاحات اور ایف بی آر
ایف بی آر میں ڈیجیٹل اصلاحات جاری ہیں اور وزیر اعظم خود ان اصلاحات کی قیادت کر رہے ہیں۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانی بڑی تعداد میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
بھارت کا منفی کردار اور عالمی حمایت
وزیر خزانہ نے بھارت کے منفی کردار کو بھی اجاگر کیا کہ کس طرح بھارت نے آئی ایم ایف کے بورڈ میں پاکستان کی مخالفت کی۔ تاہم، عالمی مالیاتی ادارے اب پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
نتیجہ
قومی اقتصادی سروے 2024-25 کے مطابق پاکستان کی معیشت ایک مثبت سمت میں جا رہی ہے، جس میں معاشی اصلاحات، ٹیکس سسٹم میں بہتری، زرعی ترقی، صنعتی فروغ، اور عالمی تعاون کا کلیدی کردار ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubts Please let me know