یو اے ای میں ڈلیوری ورکرز کے لیے 10,000 سے زائد ایئر کنڈیشنڈ آرام دہ اسٹیشنز فراہم
یو اے ای میں ڈلیوری ورکرز کے لیے 10,000 سے زائد ایئر کنڈیشنڈ آرام دہ اسٹیشنز فراہم – دوپہر کے وقفے کی مہم کا آغاز
متحدہ عرب امارات (UAE) میں گرمیوں کے دوران مزدوروں کی صحت اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے دوپہر کے وقفے (Midday Break) کی سالانہ مہم کا آغاز 15 جون 2025 سے کیا جا رہا ہے، جو 15 ستمبر 2025 تک جاری رہے گی۔ اس اہم اقدام کے تحت 10,000 سے زائد ایئر کنڈیشنڈ ریسٹ اسٹیشنز ملک بھر میں ڈلیوری سروس ورکرز کے لیے دستیاب ہوں گے۔
ڈلیوری ورکرز کے لیے خصوصی سہولیات
یہ ریسٹ ایریاز نہ صرف ٹھنڈک فراہم کریں گے بلکہ دیگر آرام دہ سہولیات جیسے کہ پانی، بیٹھنے کی جگہ اور موبائل چارجنگ پوائنٹس سے بھی لیس ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد یو اے ای میں مزدوروں کی فلاح و بہبود کو فروغ دینا اور شدید گرمی سے بچاؤ کو یقینی بنانا ہے۔
سرکاری اور نجی اداروں کی شرکت
اس انسانی ہمدردی پر مبنی اقدام کو مختلف سرکاری و نجی شراکت داروں کی مدد سے ممکن بنایا گیا ہے، جن میں شامل ہیں:
-
دبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA)
-
ابوظہبی کا ڈیپارٹمنٹ آف میونسپلٹیز اینڈ ٹرانسپورٹ کا انٹیگریٹڈ ٹرانسپورٹ سینٹر
-
امارات بھر کے ڈیپارٹمنٹس آف اکنامک ڈیولپمنٹ
-
امارات جنرل پیٹرولیم کارپوریشن (Emarat)
ڈلیوری پلیٹ فارمز اور کاروباری ادارے بھی شامل
اس اقدام کی حمایت کرنے والوں میں معروف ڈلیوری پلیٹ فارمز جیسے:
-
طلبات (Talabat)
-
ڈیلیورو (Deliveroo)
-
نون (Noon)
-
کریم (Careem)
کے ساتھ ساتھ ریسٹورینٹس، شاپنگ مالز، ریٹیل اسٹورز، اور کلاؤڈ کچن بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے مقامات کو ریسٹ اسٹیشنز میں تبدیل کیا ہے۔
وزارت کی جانب سے شراکت داروں کو سراہا گیا
وزارت نے تمام شراکت دار اداروں اور کمپنیوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس مہم میں حصہ لے کر مزدوروں کی بہتری میں اپنا کردار ادا کیا۔ یہ مہم نہ صرف گرمی میں کام کرنے والے محنت کشوں کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے، بلکہ یو اے ای کی جانب سے مزدور دوستی اور انسانی حقوق کے احترام کی ایک عمدہ مثال بھی پیش کرتی ہے۔
خلاصہ
یو اے ای میں دوپہر کے وقفے کی مہم ہر سال مزدوروں کے تحفظ کے لیے منعقد کی جاتی ہے، اور اس بار 10,000 سے زائد ایئر کنڈیشنڈ آرام دہ اسٹیشنز کی دستیابی اسے مزید مؤثر بناتی ہے۔ یہ مہم نہ صرف ڈلیوری ورکرز کے لیے بہتر کام کا ماحول فراہم کرتی ہے بلکہ سرکاری و نجی اداروں کی مشترکہ کاوش کا بھی مظہر ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubts Please let me know