قومی اسمبلی اجلاس:
قومی اسمبلی اجلاس: پاکستان میں گلیشیئرز کی صورتحال، آئی ٹی کمپنیوں کی تفصیلات اور موسمیاتی خطرات پر اہم انکشافات
قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں پاکستان میں گلیشیئرز، موسمیاتی تبدیلی، آئی ٹی سیکٹر کی ترقی اور سرمایہ کاری سے متعلق اہم تفصیلات پیش کی گئیں۔ اجلاس کے دوران وقفہ سوالات میں وفاقی وزراء کی جانب سے فراہم کردہ معلومات نے کئی اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی، جن میں گلیشیئرز کی تیزی سے پگھلتی صورتحال، سیلاب سے پیدا ہونے والے خطرات، اور ملک میں رجسٹرڈ آئی ٹی کمپنیوں کی تعداد شامل ہے۔
پاکستان میں گلیشیئرز کی صورتحال تشویشناک
وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا کہ پاکستان میں 13,032 گلیشیئرز موجود ہیں، جن میں سے 10 ہزار گلیشیئرز عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ ان میں سے 3,044 گلیشیئرز کے پگھلنے سے جھیلیں بن چکی ہیں جبکہ 33 جھیلیں انتہائی غیر مستحکم قرار دی گئی ہیں، جو 7.1 ملین افراد کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہیں۔
مزید برآں، پاکستان گلاف پروجیکٹ کے تحت 24 وادیوں میں قبل از وقت وارننگ سسٹم، 50 ویدر اسٹیشنز اور 408 ریور ڈسچارج سینسرز نصب کیے جا چکے ہیں تاکہ گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (GLOF) جیسے خطرات سے بچاؤ ممکن ہو۔
موسمیاتی تبدیلی سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر
وزیر موسمیاتی تبدیلی نے یہ بھی بتایا کہ عالمی رپورٹ کے مطابق پاکستان موسمیاتی خطرات سے متاثرہ ممالک میں سرِفہرست ہے۔ سال 2022 کے تباہ کن مون سون سیلاب سے ملک کے 94 اضلاع متاثر ہوئے، 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر، 1700 اموات اور 76 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔ ان سیلابوں سے 30 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا، جو پاکستان کی معیشت پر کاری ضرب تھا۔
پاکستان میں آئی ٹی کمپنیاں: رجسٹریشن کی تفصیل
وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے وقفہ سوالات میں بتایا کہ پاکستان میں اس وقت 20,711 آئی ٹی کمپنیاں پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ صوبہ وار تفصیلات درج ذیل ہیں:
-
پنجاب: 10,745 کمپنیاں
-
سندھ: 6,352 کمپنیاں
-
وفاقی علاقہ: 3,264 کمپنیاں
-
خیبرپختونخواہ: 243 کمپنیاں
-
بلوچستان: 43 کمپنیاں
-
گلگت بلتستان: 35 کمپنیاں
-
آزاد کشمیر: 29 کمپنیاں
یہ اعدادوشمار پاکستان کے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل ایکوسسٹم اور آئی ٹی ایکسپورٹس کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
ایس آئی ایف سی اور سرمایہ کاری کی صورتحال
وفاقی وزیر پارلیمانی امور شرمیلا فاروقی نے اجلاس میں کہا کہ حکومت کے مطابق اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے تحت آئندہ پانچ سالوں میں 70 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا ہدف رکھا گیا ہے۔ تاہم اب تک محض 2.3 ارب ڈالرز کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی جا سکی ہے، جو کہ ناکافی اور مایوس کن کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubts Please let me know