سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظر ثانی:
سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظر ثانی: سنی اتحاد کونسل کا دعویٰ متنازعہ
سپریم کورٹ آف پاکستان میں مخصوص نشستوں کے حوالے سے اہم آئینی اور قانونی نکات پر غور کیا جا رہا ہے۔ جسٹس امین الدین کی سربراہی میں گیارہ رکنی لارجر بینچ نے سنی اتحاد کونسل (SIC) کی مخصوص نشستوں پر نظر ثانی کی درخواست پر سماعت کی۔
سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں: جسٹس جمال مندوخیل
سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے دو ٹوک ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ SIC ایک پارلیمانی پارٹی بن سکتی تھی، لیکن چونکہ اس نے عام انتخابات 2024 میں بطور جماعت حصہ نہیں لیا، اس لیے وہ متناسب نمائندگی کی بنیاد پر مخصوص نشستوں کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔
جسٹس مسرت ہلالی کے سخت سوالات
سماعت کے دوران جسٹس مسرت ہلالی نے اہم آئینی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ "سنی اتحاد کونسل نے خود الیکشن میں حصہ نہیں لیا تو وہ آزاد امیدواران کو کس حیثیت سے شامل کر سکتی ہے؟"
انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ جو جماعت پارلیمنٹ میں موجود ہی نہیں ہے، اس میں جیتنے والے آزاد اراکین کیسے شامل ہو سکتے ہیں؟ ان کا اشارہ اس جانب تھا کہ مخصوص نشستوں کی آئینی حیثیت صرف ان پارٹیوں کو حاصل ہوتی ہے جو الیکشن میں باقاعدہ حصہ لے کر پارلیمان میں پہنچتی ہیں۔
وکیل مخدوم علی خان کے دلائل
سنی اتحاد کونسل کے وکیل مخدوم علی خان نے مؤقف اختیار کیا کہ آزاد امیدواران نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی، اس لیے ان کو مخصوص نشستوں کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ان نشستوں پر ارکان کو ڈی نوٹیفائی کیا، لیکن انہیں نوٹس نہیں دیا گیا جو قانونی طور پر درست نہیں ہے۔
آئینی نکات: آرٹیکل 225 اور مخصوص نشستیں
سماعت میں آرٹیکل 225 پر بھی بحث ہوئی، جس کے تحت کسی بھی الیکشن کے تنازعہ کو ٹربیونل کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ تاہم، جسٹس مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ یہ آئینی دفعہ اس کیس پر کیسے لاگو ہوتی ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے وضاحت کی کہ یہ معاملہ مخصوص نشستوں کا ہے، جو پارٹی لسٹ اور متناسب نمائندگی پر مبنی ہوتی ہیں۔
سپریم کورٹ کا مستقبل کا فیصلہ اہم ہوگا
یہ کیس نہ صرف سنی اتحاد کونسل کے لیے بلکہ پاکستان کی پارلیمانی سیاست اور آئینی روایات کے لیے بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اگر عدالت نے سنی اتحاد کونسل کا دعویٰ مسترد کر دیا تو یہ ایک نظیر (precedent) قائم کرے گا کہ وہ جماعتیں جو انتخابات میں حصہ نہیں لیتیں، وہ مخصوص نشستوں کی اہل نہیں ہو سکتیں۔
نتیجہ
سپریم کورٹ کی یہ سماعت پاکستان کے انتخابی اور آئینی نظام میں شفافیت، آئین کی بالادستی اور انتخابی عمل کی شفافیت کے لیے ایک بڑی آزمائش ہے۔ مخصوص نشستوں کا تنازعہ آئندہ سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے لیے ایک واضح پیغام ہوگا کہ آئینی تقاضے پورے کیے بغیر سیاسی فوائد حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
.jpg)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubts Please let me know