گجرات کے چار نوجوان ٹریفک حادثے میں جان کی بازی ہار گئے
سیاحت کی غرض سے گلگت بلتستان کا رخ کرنے والے گجرات کے چار نوجوان ٹریفک حادثے میں جان کی بازی ہار گئے، نوجوانوں کی گاڑی گلگت،سکردو روڈ پر حادثے کا شکار ہو کر کھائی میں جا گری، چاروں دوستوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔
لاپتہ نوجوانوں کی شناخت سلیمان، واصف شہزاد، عمر احسان اور عثمان کے طور پر ہوئی ہے، جو اپنی سفید رنگ کی ہونڈا سیوک (نمبر 805-ANE) پر چند روز قبل گلگت اور ہنزہ کی سیاحت کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ 15 مئی کی رات یہ نوجوان گلگت کے علاقے دنیور سے سکردو کے لیے روانہ ہوئے تھے، جس کے بعد سے ان سے کوئی رابطہ نہ ہو سکا۔
اہل خانہ کے مطابق نوجوانوں کا آخری بار رابطہ دنیور سے ہوا تھا، جہاں وہ محسن لاج میں مقیم تھے۔ 16 مئی کو صبح کے وقت وہ سکردو کی جانب روانہ ہوئے، تاہم ان کے موبائل فون بند ہو گئے اور کسی سے بھی رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔
پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے ان کی تلاش کے لیے گلگت سے سکردو جانے والے تمام راستوں پر چیک پوسٹس اور تھانوں کو الرٹ کر دیا تھا۔ ایس ایس پی گلگت ظہور احمد کے مطابق تلاش کا دائرہ وسیع کیا گیا اور مختلف مقامات پر سرچ آپریشن جاری رکھا گیا۔
اب مقامی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ گنجی پڑی کے مقام پر ان کی گاڑی حادثے کا شکار ملی ہے اور بدقسمتی سے چاروں نوجوان موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ سولہ مئی کو گلگت بلتستان میں لاپتہ ہونے والے چار دوستوں کی لاشیں کھائی سے نکال لی گئیں۔
گاڑی گلگت سے سو کلومیٹر دور گنجی پڑی کے مقام پر سیکڑوں فٹ گہری کھائی میں گری تھی، یہ مقام ایسا تھا کہ کسی کو بھی گاڑی نظر نہ آئی۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubts Please let me know