پاکستان: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے پیکا ترمیمی بل کی منظوری دے دی
پاکستان: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے پیکا ترمیمی بل کی منظوری دے دی
پاکستان میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پیکا (PICA) ترمیمی بل کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد اس بل کی قانونی حیثیت میں تبدیلی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ پیکا قانون کا مقصد پاکستان میں سوشل میڈیا پر انتہاپسند مواد اور ہراسانی کے واقعات کو روکنا ہے، لیکن اس بل پر مختلف حلقوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
پیکا ترمیمی بل کی منظوری: کیا تبدیلیاں آئیں گی؟
سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا، جس میں پیکا ترمیمی بل کی منظوری دی گئی۔ اس بل کے مطابق، حکومت پاکستان نے سوشل میڈیا پر افراد کی آزادی اظہار کو کنٹرول کرنے کے لیے چند اہم ترامیم متعارف کرائی ہیں۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم لوگوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے اور اس کے ذریعے قوانین کا بہتر نفاذ کیا جا سکے گا۔
صحافتی تنظیموں کی مخالفت
پیکا ترمیمی بل پر صحافتی تنظیموں کی جانب سے شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔ صحافیوں کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم ان کی آزادی اظہار کو محدود کرے گی اور حکومت کو سوشل میڈیا پر کنٹرول کا اضافی اختیار دے گی۔ صحافتی تنظیموں نے اس بل کے خلاف تحریری سفارشات دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے، مگر کمیٹی کے چیئرمین نے ان سے تحریری سفارشات پیش نہ کرنے پر سوال اٹھایا۔
پیکا ترمیمی بل کی قانونی حیثیت
اس بل کو قومی اسمبلی سے بھی منظور کیا جا چکا ہے، تاہم اس میں مزید ترامیم کی ضرورت پر بھی بات چیت جاری ہے۔ وزیر اطلاعات اور صحافیوں کے درمیان اس بل کے حوالے سے کئی ملاقاتیں ہوئی ہیں جن میں بعض ترامیم پر اتفاق کیا گیا تھا، تاہم یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا وزارت داخلہ قومی اسمبلی سے منظور شدہ بل میں مزید ترمیم کرنا چاہتی ہے؟
پیکا بل کے تناظر میں عوامی ردعمل
پاکستان میں پیکا بل کی منظوری کے بعد عوامی سطح پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ حلقے اس بل کو مثبت قدم قرار دے رہے ہیں کیونکہ یہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والے جعلی خبروں اور نفرت انگیز مواد کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ دوسرے حلقے اس بل کو آزادی اظہار پر قدغن کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
نتیجہ
پیکا ترمیمی بل کی منظوری کے بعد اس بل کا قانون میں انضمام ایک نیا مرحلہ شروع کرتا ہے، جس کے اثرات پاکستان کی سوشل میڈیا پالیسی پر پڑ سکتے ہیں۔ اس بل پر ہونے والی بحث اور اس کی ترامیم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والی ہراسانی اور جھوٹے الزامات کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ صحافیوں اور عوام کو اس بل کے اثرات پر تحفظات بھی ہیں۔
اگر آپ مزید اس طرح کی خبریں اور تجزیے جاننا چاہتے ہیں تو ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں اور تازہ ترین اپڈیٹس ح
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubts Please let me know