اگر آپ کتب بینی کے شوقین ہیں تو آپ نے یقیناً فرانز کافکا کا نام سن رکھا ہو گا، ان کے ایک مشہور ناول کا نام ’دی ٹرائل‘ ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار ایک دن سو کراٹھتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ اس پہ سرکار کی جانب سے مقدمہ قائم کر دیا گیا ہے۔
الزام کیا ہے، اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ پوری کہانی اسی مقدمے کے گرد گھومتی ہے۔ الزام معلوم نہ ہونے کے باوجود بھی وہ سالوں عدالتی نظام میں خوار ہوتے ہوئے گزار دیتا ہے اور پھر ایک روز اچانک سرکاری اہلکار اسے گھر سے اٹھا کر لے جاتے ہیں اور سینے میں خنجر اتار کر مار دیتے ہیں۔
فرانز کافکا کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے۔ اس کا تمام لٹریچراسی طرح کا ہے۔ جہاں ایک شخص اپنی ہی کسی ایسی اُلجھن یا ذمہ داریوں میں پھنسا ہوتا ہے جہاں وہ بے بسی کی آخری حد تک اپنے بنائے پنجرے میں قید ہوتا ہے۔
فرانز کافکا کا والد ہرمن کافکا ایک کامیاب کاروباری شخصیت تھا جس نے اپنی محنت سے یہ مقام حاصل کیا۔ اس کی خواہش تھی کہ اس کا بیٹا بھی ایسا ہو کہ جس پر وہ فخر کر سکے۔
پیدائش کے وقت فرانز کافکا انتہائی کمزور تھا۔ اسے دیکھتے ہی باپ کو سخت مایوسی ہوئی۔ فرانز کافکا رائٹر بننا چاہتا تھا مگر اس کے باپ نے اسے قانون دان بننے کا کہا لہٰذا لکھائی کو پیشہ بنانے کا ارادہ ترک کر کے فرانز کافکا نے لا کالج میں داخلہ لیا۔
ٹھیک اسی طرح فرانزکافکا کا سارا بچپن اپنے باپ کی توجہ حاصل کرنے کی ناکام کوششوں میں ہی ضائع ہوا۔ اس کا باپ اُسے سخت سزائیں دیتا جسے وہ چپ چاپ سہتا رہا اور آخر میں اُس نے یہ تسلیم کر لیا کہ اس کا باپ ٹھیک ہے۔
اس کی ذات واقعی حقارت کے لائق ہے اسی لیے فرانزکافکا نے اپنی محبوبہ ڈورا ڈیمنٹ جیسی وفادار خاتون سے شادی بھی نہیں کی۔
بمشکل تین کتابیں شائع کرنے کے بعد باقی کام ادھورا چھوڑ دیا اور بسترِ مرگ پہ اپنے واحد دوست میکس براڈ کو تاکید کی کہ موت کے بعد میرے سارے لکھے کام کو جلا دینا، یہ اس قابل نہیں کہ کوئی اسے پڑھے۔
میکس براڈ اُس کی زندگی میں موجود واحد شخص تھا جسے لگتا تھا کہ فرانز کافکا کا کام بہت معیاری ہے اُسے اپنے منفی خول سے نکل کر اپنی لکھائی کو اہمیت دینی چاہیے۔ بہرحال طویل بیماری کے بعد اسی حالتِ مایوسی میں فرانزکافکا کی موت واقع ہو گئی۔
موت سے کچھ سال قبل بھی اس نے اپنے باپ کو ایک سینتالیس یا چھیالیس صفحات پر مشتمل خط لکھا جس میں اپنی زندگی کی تکالیف کا ذکر کیا کہ شاید اسی طرح اُس کے باپ کو رحم آ جائے اور وہ اسے اپنا بیٹا تسلیم کر لے یا دو بول محبت کے ہی بول دے۔ فرانز کافکا کی موت کے بعد اُس کے دوست میکس براڈ نے وصیت کو نظرانداز کرتے ہوئے اُس کے تمام کام کو یکجا کیا اور شائع کروانا شروع کر دیا۔
فرانز کافکا کی تین مشہور زمانہ کتابیں دی ٹرائل، دی کاسل اور امریکہ موت کے بعد شائع ہوئیں جن کو بے پناہ مقبولیت ملی اور بعد از وفات فرانز کافکا کو بیسویں صدی کا نامور مصنف بنا گئیں۔ آپ کو کیا لگتا ہے فرانزکافکا نے اپنی زندگی میں کہاں غلطی کی؟ میرے خیال میں سب سے پہلی اور بڑی غلطی یہ تھی کہ وہ ایک فلاسفر تو تھا پر فلسفے کی بنیاد ’ پلاٹو‘ کو نہیں پڑھ رکھا تھا۔
یا پھر شاید پڑھا بھی ہو پر سمجھ نہ پایا ہو اسی وجہ سے اس نے جو دوسری بڑی غلطی کی وہ وہی غلطی ہے جس کا آج بھی ہم میں سے بہت سے لوگ ارتکاب کرتے ہیں پہلی غلطی اگر فرانز کافکا نے پلاٹو کو پڑھا ہوتا تو اُسے معلوم ہوتا کہ پلاٹو نے کامیاب زندگی گزارنے کے جو چار اصول بتائے تھے اُن میں سے ایک یہ تھا کہ جو تم سے پیار کرتا ہے اُسے اپنی ذات پر اتنا اختیار دو کہ اس میں اپنی مرضی کی تبدیلی لا سکے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubts Please let me know