ناکامی کے 10 اصول
کامیابی کا دور دور تک تعلق نہیں ہوتا جو رات کو جاگتا اور دن کو سوتا ہے کیونکہ اس کا اثر انسانی سوچ پر ہوتا دماغ کمزور ہوتا اور تخلیقی صلاحیت کم ہوتی ہے جبکہ جسم سارا دن سستی کا شکار رہتا ہے۔
اپنے کام سے کام نہ رکھنا ایک ایسا اصول ہے جس کی وجہ سے انسان دوسروں کے کاموں پر توجہ رکھتا اور سوچتا مگر اپنے کام پر فوکس نہیں کرپاتا۔
جس کام کی خود میں کرنے کی صلاحیت نہ ہو اور وہ زبردستی کرتے بھی جانا ایک ایسا اصول ہے جس کی وجہ سے کام کا جگاڑ تو لگ جاتا مگر کام میں نکھارآنا بہت مشکل ہوتا۔
جس کام میں دلچسپی نہ ہو اور اسے کرنے کی ضد لگانا کیونکہ کسی کو ہرانا یا نیچا دکھانا ہوتا یا پھر زبردستی آپ پر تھوپ دیا جاتا۔
اپنے کام سے مخلص نہ ہونا بھی ایک ایسا اصول ہے جس سے ناکامی کنفرم ہوتی، اگر آپ اپنے کام سے مخلص نہیں ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ آپ ٹائم پاس کررہے ہیں۔
صرف پیسہ کمانے کے لیے کام کرنا بھی ایک ایسا اصول ہے جس سے کامیابی نہیں ملتی کیونکہ اس میں لالچ کام میں آجاتا ہے اور کام سے زیادہ پیسہ کمانے پر دھیان رہتا۔
ناکامی آپ کے ساتھ چپک جاتی ہے اگر دنیا کیا کہے گی یہ سوچنا شروع کردیا جائے، بہت سے لوگ صرف اس ڈر سے کچھ کر ہی نہیں پاتے کہ دنیا کیا کہے گی، والدین کیا کہیں گے وغیرہ۔
اپنے من کی نہ سننا اور دوسروں کے مشوروں پر عمل کرنا بھی ناکام ہی رکھتی ہے، مشہور کہاوت ہے کہ مشورہ سب کا لو مگر کرو وہی جو آپ کو ٹھیک لگتا ہے۔
ناکامی کے ڈر سے کوشش نہ کرنا بھی آپ کو ناکام ہی بنادیتی ہے جو کہ ایک کمزور انسان ہونے کی علامت ہے، اور اگر کوشش کربھی لیں تو یہی ڈر دل میں رکھنا کہ ناکام ہوجاوں گا بھی ایک ناکامی کا خطرناک اصول ہے۔
ناکام ہوجاتے ہیں جو کام کی رفتار بہت تیز یا بہت کم رکھتے ہیں مثال کے طور پر تیز گاڑی چلاؤ گے تو ٹھک جاؤ گے اور آہستہ چلاؤ گے تو منزل نہیں ملے گی اس لیے کوئی بھی کام کرو تو سوچ سمجھ کر اور ایک مناسب رفتار سے کرو ورنہ ناکامی تو مل ہی رہی ہے۔
ناکامی کا دسواں اصول یہی ہے آپ کامیابی کے اصول پڑھتے اور سنتے رہیں مگر عمل بالکل نہ کریں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
If you have any doubts Please let me know